سعودی عرب کے پاس برآمد کرنے کے لیے کچھ ہی دنوں کا تیل بچا ہے۔ اگر اس نے بحیرہ احمر تک جانے والی ایک اہم پائپ لائن کو جلد از جلد ٹھیک نہیں کیا تو عالمی تیل کی سپلائی 4 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ کے مطابق اس سے قبل سے جاری تیل بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے اور ایندھن کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے جمعہ (11 ستمبر) کو اپنی اہم ’ایسٹ-ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کو بند کر دیا۔ ریاض نے اب تک نقصان کی مکمل تفصیلات یا پائپ لائن کے دوبارہ شروع ہونے کی ٹائم لائن نہیں بتائی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ 6 مہینوں میں جزیرہ نما عرب کے پار بحیرہ احمر تک جانے والی اس پائپ لائن نے سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کے جنگی حالات میں بند ہونے کے اثر سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے پڑوسی ممالک کی تیل کی برآمدات پر شدید اثر پڑا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب نے اس پائپ لائن کے ذریعہ روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل بحیرہ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ تک بھیجا۔ یہ مقدار عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد ہے۔
صنعت سے وابستہ 3 ذرائع کے مطابق پائپ لائن بند ہونے کے بعد ینبع میں موجود تیل کا ذخیرہ صرف 5 سے 7 دنوں تک برآمدات جاری رکھنے لائق ہے۔ سعودی عرب کے پاس بحیرہ احمر کے عین سخنہ اور بحیرہ روم کے سیدی کریر بندرگاہوں سے بھی کچھ دنوں تک صارفین کو سپلائی کرنے کے لیے تیل موجود ہیں۔ ان کے مطابق ینبع میں تقریباً 3.5 کروڑ بیرل تیل رکھنے کی گنجائش ہے، جبکہ عین سخنہ کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 1.8 کروڑ بیرل اور سیدی کریر کی تقریباً 2 کروڑ بیرل ہے۔ ذرائع کے مطابق پائپ لائن کی مرمت میں 5 سے 6 ہفتے لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ان میں سے ایک نے کہا کہ پائپ لائن کو اس سے قبل بحال کیا جا سکتا ہے اور مرمت جاری رہنے کے دوران جزوی طور پر آئل پمپنگ بھی شروع ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے جمعہ کو کہا کہ اگست میں سعودی عرب کی تیل کی سپلائی 3 دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے تیل کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ آئی ای اے کا اندازہ ہے کہ رواں سال عالمی تیل سپلائی میں 57 لاکھ بیرل یومیہ کی گراوٹ آ سکتی ہے۔ یہ عالمی سپلائی کا تقریباً 6 فیصد ہے۔ ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن پر حملے کے بعد تیل کی سپلائی سے جڑے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
