نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے آج جمعرات کو اپنی پریس کانفرنس میں گزشتہ چند برسوں کے مختلف واقعات کو ایک سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی نظام میں بے ضابطگیوں کے بارے میں وہ مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کی پیش کردہ پریزنٹیشن میں 2023 سے ستمبر 2026 تک کے واقعات کی ٹائم لائن شامل تھی۔
راہل گاندھی نے اپنی پریزنٹیشن میں 21 دسمبر 2023 کو پارلیمنٹ سے منظور کیے گئے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق قانون کو اہم نقطہ قرار دیا۔ یہ قانون الیکشن کمشنروں کی تقرری، مدت کار، سروس کی شرائط اور الیکشن کمیشن کے کام کاج سے متعلق طریقہ کار طے کرتا ہے۔ اس قانون کے تحت تقرری کے لیے سلیکشن کمیٹی میں وزیر اعظم، مرکزی کابینہ کے ایک رکن اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف شامل ہیں۔
اس کے بعد 7 فروری 2025 کو مہاراشٹر کے انتخابی عمل سے متعلق پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے اس وقت بھی انتخابی عمل پر سوال اٹھائے اور شواہد پیش کیے تھے۔ ان کی پریزنٹیشن میں 17 فروری 2025 کو گیانیش کمار کی تقرری کے خلاف پیش کیے گئے اختلافی نوٹ کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔
گیانیش کمار کو 17 فروری 2025 کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا اور ان کی تقرری 19 فروری سے مؤثر ہوئی۔ تقرری سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر داخلہ امت شاہ اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی شامل تھے۔ راہل گاندھی نے اس وقت تقرری کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اختلافی نوٹ پیش کیا تھا۔
