مراکش کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ شاہ محمد ششم نے فاطمہ عزرا المنصوری کو نیا وزیراعظم مقرر کیا ہے۔ مراکش کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی خاتون کو حکومت کی سربراہی کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فاطمہ عرب دنیا میں وزیر اعظم بننے والی دوسری خاتون بن گئی ہیں۔
26 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں، ان کی پارٹی، آتھنسٹی(صداقت) اور ماڈرنیٹی (جدیدیت) پارٹی (پی اے ایم)سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ پارٹی نے پارلیمنٹ کی 395 میں سے 97 سیٹیں جیتیں۔ تاہم حکومت بنانے کے لیے 198 نشستیں درکار ہیں۔ اس لیے وزیر اعظم بننے کے بعد فاطمہ کو مخلوط حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔
فاطمہ کی جماعت نے اتحاد کے لیے دیگر جماعتوں کے ساتھ بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم بعض جماعتوں نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں فاطمہ کو مختلف جماعتوں کو اکٹھا کرنے اور حکومت بنانے کا چیلنج درپیش ہوگا۔ ان کی تقرری کے بعد، سب کی نظریں اس پر ہیں کہ وہ حکومت بنانے کے لیے کن پارٹیوں کے ساتھ شراکت کریں گی۔
50 سالہ فاطمہ منصوری مراکش کی سیاست کی ایک معروف شخصیت ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ ایک وکیل تھیں۔ اس نے فرانس کی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ فاطمہ 2009 میں مراکش کی میئر منتخب ہوئیں، وہ شہر کی پہلی خاتون میئر بنیں۔ مقامی سیاست میں اپنی موجودگی قائم کرنے کے بعد وہ قومی سطح پر بھی سرگرم ہوگئیں۔ 2021 کے انتخابات کے بعد وہ دوبارہ مراکش کی میئر بن گئیں۔ جس کے بعد انہوں نے وزارت کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔







