ٹاٹا گروپ کی ایئر لائن کمپنی ’ایئر انڈیا‘ بڑے پیمانے پر توسیع کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی کو نئے طیارے خریدنے، پرانے طیاروں کو بہتر بنانے اور روزمرہ کے اخراجات کے لیے تقریباً 10,000 کروڑ روپے کے نئے قرض کی ضرورت ہے۔ لیکن اس بار قرض حاصل کرنے کی راہ اتنی آسان دکھائی نہیں دے رہی۔ ایئر انڈیا کی شاندار ’اے اے اے‘ کریڈٹ ریٹنگ کے باوجود کچھ پرائیویٹ بینکس نیا قرض دینے سے پہلے جھجک کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان بینکوں کو کمپنی کے مسلسل ہونے والے خسارے نے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس معاملے کی جانکاری رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ بینک ایئر انڈیا کے کیش فلو کے بارے میں پوری طرح مطمئن ہونا چاہتے ہیں۔ بینک یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کمپنی مستقبل میں منافع میں کیسے آئے گی۔
دراصل مارچ 2026 میں ختم ہونے والے مالی سال میں ایئر انڈیا کا مجموعی خسارہ دوگنا ہو کر 22,238 کروڑ روپے ہو گیا۔ ایک سال پہلے یہ خسارہ 10,858 کروڑ روپے تھا۔ غیر ملکی کرنسی کے نقصان نے بھی اس خسارے کو تیزی سے بڑھانے کا کام کیا ہے۔ گزشتہ سال جو غیر ملکی کرنسی کا نقصان 1,545 کروڑ روپے تھا، وہ اس سال بڑھ کر 7,388 کروڑ روپے ہو گیا۔ بینکوں کی ایک بڑی تشویش یہ بھی ہے کہ اگر کمپنی منافع میں نہیں آئی تو قرض چکانے کے لیے اسے پوری طرح ٹاٹا گروپ سے ملنے والے فنڈ پر انحصار کرنا پڑے گا۔
ایک طرف جہاں پرائیویٹ بینکس سوال اٹھا رہے ہیں، وہیں سرکاری بینک کمپنی کو قرض دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ ان بینکوں کے لیے ٹاٹا گروپ کا نام ہی کافی ہے۔ ایئر انڈیا کی اعلیٰ کریڈٹ ریٹنگ بینکوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ یہاں خطرہ کافی کم ہے۔ موجودہ وقت میں ایئر انڈیا پر تقریباً 40,000 کروڑ روپے کا قرض ہے۔ ریٹنگ ایجنسی کریسل کے مطابق اس میں سب سے بڑا حصہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا ہے۔ اس کے بعد بینک آف بڑودہ اور پنجاب نیشنل بینک کا نمبر آتا ہے۔
ٹاٹا گروپ کے ایک سینئر افسر نے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹاٹا برانڈ کی مضبوطی کے باعث ان کی کسی بھی کمپنی کو کبھی بھی فنڈ حاصل کرنے میں دشواری نہیں ہوئی ہے۔ فی الحال ایئر انڈیا میں ٹاٹا سنز کی 74.9 فیصد حصے داری ہے، جبکہ باقی 25.1 فیصد حصہ سنگاپور ایئر لائنز کے پاس ہے۔ بینکوں کو اس بات سے بڑی راحت ہے کہ ٹاٹا سنز آئندہ بھی کمپنی میں کم از کم 51 فیصد حصے داری اپنے پاس رکھے گا۔







