کرناٹک میں جاری ایس آئی آر کے درمیان ایک بڑی پیش رفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں غلط دعووں اور اعتراضات کے عمل میں دھاندلی کو روکنے کے لیے علیحدہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے، دوسری طرف مسلم ووٹرز کے نام حذف کرنے کے الزام میں بی جے پی لیڈران پر ایف آئی آر درج کیے جانے کی اطلاع موصول ہو رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے کرناٹک کے چیف الیکٹورل افسر کو ہدایت دی ہے کہ ووٹر لسٹ سے متعلق فرضی دعوے اور اعتراضات داخل کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اس ہدایت کے پیش نظر کرناٹک پولیس نے بیلگاوی ضلع میں جاری ایس آئی آر کے دوران فارم-7 درخواست کا استعمال کرتے ہوئے 198 مسلم ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں کرناٹک کے بی جے پی لیڈر روی پاٹل اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ ایف آئی آر کے علاوہ بھی ایس آئی آر میں گڑبڑی سے متعلق کم از کم 2 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک میسورو میں مقامی بی جے پی لیڈروں اور دیگر کے خلاف درج کی گئی ہے، جس میں شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران اس کے، اس کے خاندان اور ’مسلم طبقے‘ کے دیگر افراد کے ووٹ حذف کرنے کی سازش رچی گئی۔ اس کوشش سے مسلم طبقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی اور معاشرے میں بدامنی بھی پیدا ہوئی۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ پاٹل کے خلاف بیلگاوی مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں 30 ستمبر کو میراسب سنادی کی شکایت پر معاملہ درج کیا گیا۔ سنادی بیلگاوی شمال اسمبلی حلقہ کے وارڈ نمبر 12 میں بوتھ لیول ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔
