دہلی-این سی آر میں مسلسل پیش آ رہے عصمت ریزی اور جنسی جرائم کے معاملوں پر سپریم کورٹ نے آج سماعت کی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے پوچھا کہ ایسے جرائم کو روکنے کے لیے پریوینٹیو یعنی جرم کو ہونے سے پہلے روکنے والی پولیسنگ کے طور پر کیا قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے کہا کہ صرف کاغذوں پر حکم اور ہدایت کافی نہیں ہے، بلکہ زمین پر اس کا اثر دکھائی دینا چاہئے۔ عدالت نے دہلی پولیس سے خواتین اور بچوں کی سیکورٹی سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کی اسٹیٹس رپورٹ بھی طلب کی۔
سماعت کے دوران جسٹس جے بی پاردی والا نے کہا کہ جب تک آپ مجرموں کے ذہنوں میں یہ خوف پیدا نہیں کرتے ہیں کہ ایسا کچھ کرنے پر مارے جائیں گے، تب تک آپ ایسے جرائم کو روک نہیں پائیں گے۔ آپ کو ایسے جرائم کرنے کا رجحان رکھنے والے شخص کے ذہن میں خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کے لیے کہا۔ سماعت کے دوران حقوق انسانی اور ملزمین سے وابستہ آرٹیکل 21 کا بھی ذکر کیا گیا۔
جسٹس پاردی والا نے اسکول اور کالج کے قریب سیکورٹی انتظامات پر توجہ دینے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے ایسی جگہوں کا ذکر کیا جہاں غنڈے یا سماج دشمن عناصر نئے طلباء کو ہراساں کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے مقامات پر مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کے 28 ستمبر کے حکم میں بھی عوامی مقامات کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، پارکوں، سڑکوں، بازاروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سیکورٹی انتظامات کی تفصیل طلب کی گئی تھی۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا تھا کہ دیر شام اور صبح کے وقت جب عوامی مقامات پر آمد و رفت کم ہو سکتی ہے، تب سیکورٹی انتظامات کتنے اثر انداز ہوتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے پبلک ٹرانسپورٹ اور خواتین کی آمد و رفت والے حساس علاقوں میں نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ عدالت کی سابقہ سماعت میں دہلی پولیس کو کمزور اور حساس علاقوں کی نشاندہی کرنے، سی سی ٹی وی اور اسٹریٹ لائٹ کی صورتحال کی جانچ کرنے اور پٹرولنگ کے انتظام کا آڈٹ کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس کے لیے ضلعی سطح پر ٹیم تشکیل دینے کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے بنائے گئے قواعد، احکامات اور رہنما ہدایات تبھی مؤثر ہیں، جب زمین پر عمل در آمد کیا جائے۔







