نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سمیت اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کے 11 رہنماؤں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ عرضی عدالت کی رجسٹری میں باضابطہ طور پر درج کر لی گئی ہے اور اس کا ڈائری نمبر 64196/2026 ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، عرضی 12 اکتوبر 2026 کو شام 4 بج کر 37 منٹ پر داخل کی گئی۔
راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے عرضی داخل کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے سے روانہ ہوگئے۔ اس سے قبل راہل گاندھی سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کے ساتھ عدالت پہنچے تھے۔ عرضی میں ایس آئی آر کرانے کے فیصلے کو غیر معتبر قرار دینے کی مانگ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ایس آئی آر کے عمل کی قانونی حیثیت پر غور کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے رجسٹری کو ہدایت دی ہے کہ عرضی سے متعلق ضروری کارروائی اسی دن مکمل کی جائے اور دستاویزات میں کوئی کمی ہونے کی صورت میں اسے دور کیا جائے، تاکہ معاملے کو منگل، 13 اکتوبر کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جاسکے۔ امکان ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔







