نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ گورکھا ضلع میں اتوار کی صبح تقریباً 4:30 بجے بوڑھی گنڈک ندی میں آنے والے سیلاب میں 45 مکانات اور 6 پل بہہ گئے۔ اس سے بجلی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اتوار کے روز ہی سیلاب میں 10 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، جن کا اب تک کچھ بھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ فوج نے 9 غیر ملکی شہریوں سمیت 82 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے پیر کے روز بھی حالات سنگین بنے ہوئے ہیں۔ افسران نے ندی کے کنارے رہنے والوں سے بالائی مقامات پر منتقل ہونے کے لیے کہا تھا۔ بوڑھی گنڈک میں اچانک آئے سیلاب کی وجہ سے بہار میں بھی سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس تازہ آفت نے بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی یاد تازہ کر دی ہے۔
گورکھا کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر دھرمندر کمار مشرا نے بتایا کہ اتوار کی صبح سیلاب کی اطلاع ملی۔ ایک بار پھر آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ افسر کے مطابق فی الحال کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ اطلاع کے مطابق سیلاب چومنوبری دیہی میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 6 کے علاقے سے نیچے کی جانب آیا اور ندی کے کنارے واقع بستیوں کو اپنی زد میں لے لیا۔ ’نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی‘ کے ترجمان شانتی مہت کے مطابق چومنوبری میں لوکپا اور چوملنگ کے درمیان بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔ اس کی وجہ سے ندی کا بہاؤ رک گیا اور بعد میں رکا ہوا پانی آگے بڑھنے کی وجہ سے سیلاب آگیا۔
نیپالی میڈیا رپورٹ کے مطابق بوڑھی گنڈک ندی میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے سلیری، پایوکا اور جگت میں ندی کے کنارے واقع مکانات بہہ گئے۔ سیلاب میں کئی پل بھی بہہ گئے ہیں۔ نیپالی فوج نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ بوڑھی گنڈک ندی میں سیلاب آنے کے بعد فوج کی ایک ٹکڑی کو راحت رسانی کی مہم میں تعینات کیا گیا ہے۔ اس ٹکڑی نے6 افراد کو بحفاظت باہر نکالا۔ چومنوبری دیہی میونسپلٹی کے صدر نیما لاما نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چومکے کھولا نامی آبی دھارے کا بہاؤ متاثر ہو گیا تھا۔ اس کے بعد پانی کا بہاؤ بڑھا اور اچانک سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس واقعے کی وجہ سے ندی کے آس پاس رہنے والوں کے لیے خطرہ بڑھ گیا۔







