روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی کھانے پینے کی چیزوں کے معیار پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ فوڈ سیفٹی افسران کی جانچ میں دودھ، بسکٹ اور کشمش سے متعلق کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ ان معاملات میں ڈوڈلا ڈیری، پریاگولڈ بسکٹ بنانے والی کمپنی سوریا فوڈ اینڈ ایگرو اور یوئیر آرگینک فوڈز کے نام شامل ہیں۔ جانچ میں خامیاں سامنے آنے کے بعد متعلقہ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ کچھ دیگر غذائی کاروبار کرنے والوں کو بھی اصولوں پر عمل کرنے کے لیے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔
پریاگولڈ بسکٹ بنانے والی کمپنی سوریا فوڈ اینڈ ایگرو کے یہاں معائنے کے دوران استعمال کیے جا رہے خام مال پر سوال اٹھے۔ افسران کے مطابق بسکٹ بنانے میں چوکر کا استعمال کیا جا رہا تھا، جس پر جانوروں کے چارے کے لیے ہونے کی معلومات دی گئی تھی۔ معائنے کے دوران فیکٹری میں صفائی، کیڑوں سے بچاؤ، خام مال کو مناسب طریقے سے رکھنے اور ملازمین کی صفائی سے متعلق خامیاں بھی پائی گئیں۔ اس کے بعد کمپنی کا فوڈ لائسنس معطل کر دیا گیا۔ معاملے میں قانونی کارروائی کو بھی منظوری دی گئی ہے۔
ڈوڈلا ڈیری کے فل کریم دودھ کے نمونے کی جانچ میں اس کے معیار پر کافی سوال اٹھے۔ پہلی جانچ میں دودھ کے اندر فیٹ (چکنائی) کی مقدار مقررہ معیار سے کم پائی گئی۔ اس کے بعد نمونے کو مزید جانچ کے لیے بھیجا گیا۔ دوسری جانچ میں دودھ کو محفوظ کھانے پینے کے معیار کے مطابق نہیں پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دودھ میں ڈٹرجنٹ یا کاسٹک سوڈا کی موجودگی بھی سامنے آئی۔ اس معاملے میں کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے۔







