چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر پر جاری تنازعہ کے درمیان الیکشن کمیشن نے 2 بڑے فیصلے لیے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ووٹر لسٹ کی ’ریڈیبل‘ (پڑھا جا سکنے والا) کاپی شیئر کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے جمعرات کو 17 ریاستوں میں ووٹر لسٹ کی سالانہ ’خصوصی مختصر نظرثانی‘ (ایس ایس آر) کا بھی حکم دیا ہے۔
کانگریس اس فیصلے کا سہرا راہل گاندھی کے سر باندھ رہی ہے۔ دراصل راہل گاندھی ایس آئی آر کے تازہ تنازعہ سے پہلے ہی الیکشن کمیشن سے ریڈیبل یعنی قابل مطالعہ ووٹر لسٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اب الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا ہے کہ ’’گیانو بھائی، یہ کافی نہیں ہے۔ آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے اور سرکاری گواہ بن جانا چاہیے۔ مودی-شاہ کے اشارے پر آپ نے جو نقصان پہنچایا ہے، وہ اب نوٹیفکیشن کے ذریعہ ’یو-ٹرن‘ لینے سے ٹھیک نہیں ہوگا۔
کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہم 2025 سے ہی مشین کے ذریعہ پڑھی جا سکنے والی ووٹر لسٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شفافیت تو محض ایک بنیادی ضرورت ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آپ کو آپ کے گزشتہ گناہوں سے بری کر دے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’13 کروڑ ہندوستانیوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کر دینا غداری کے مترادف ہے۔ آپ کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے اور انتخابی عمل میں وسیع پیمانے پر اصلاحات ہونی چاہئیں۔ اس کی شروعات ایس آئی آر کو منسوخ کرنے اور الیکشن کمیشن (ای سی) میں تقرریوں کے طریقۂ کار میں تبدیلی سے ہونی چاہیے۔ یہ قدم بہت چھوٹا ہے اور بہت دیر سے اٹھایا گیا ہے۔
کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہم 2025 سے ہی مشین کے ذریعہ پڑھی جا سکنے والی ووٹر لسٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شفافیت تو محض ایک بنیادی ضرورت ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آپ کو آپ کے گزشتہ گناہوں سے بری کر دے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’13 کروڑ ہندوستانیوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کر دینا غداری کے مترادف ہے۔ آپ کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے اور انتخابی عمل میں وسیع پیمانے پر اصلاحات ہونی چاہئیں۔ اس کی شروعات ایس آئی آر کو منسوخ کرنے اور الیکشن کمیشن (ای سی) میں تقرریوں کے طریقۂ کار میں تبدیلی سے ہونی چاہیے۔ یہ قدم بہت چھوٹا ہے اور بہت دیر سے اٹھایا گیا ہے۔






