دن کی شروعات اکثر لوگ ایک پیالی چائے سے کرتے ہیں۔ یہ عادت عام ضرور ہے لیکن خالی پیٹ چائے پینا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آیوروید کے مطابق صبح کے وقت جسم میں ہاضمتی توانائی سب سے زیادہ فعال ہوتی ہے، جبکہ معدہ خالی ہونے کی وجہ سے حساس بھی ہوتا ہے۔ اگر ایسے وقت میں کیفین اور ٹینن سے بھرپور چائے پی جائے تو یہ ہاضمتی توانائی کو متاثر کرتی ہے اور معدے کی اندرونی پرت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسڈٹی، گیس اور اپھارہ جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق خالی پیٹ چائے پینے سے معدے میں تیزاب کی سطح بڑھ جاتی ہے، جو گیسٹرک ایریٹیشن، جلن اور ہاضمے کی مشکلات کا سبب بنتی ہے۔ چائے میں موجود کیفین کورٹیسول ہارمون کی مقدار بڑھا دیتی ہے، جو ذہنی دباؤ اور بے چینی کو بڑھاتا ہے۔ اگر یہ ہارمون بار بار زیادہ مقدار میں فعال ہو تو نیند کی کمی، چڑچڑاپن اور ذہنی عدم توازن کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
خالی پیٹ کیفین لینے سے بھوک بھی کم ہو جاتی ہے، جس سے جسم کو ضروری غذائی اجزاء بروقت نہیں مل پاتے۔ اس سے آئرن کی کمی، اینیمیا اور کمزوری جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ جو لوگ دن بھر پانچ سے چھ کپ چائے پیتے ہیں، ان میں غذائی اجزاء کے جذب کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مستقل تھکن اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ صبح خالی پیٹ چائے پینے سے پانی کی کمی بھی ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے جلد خشک ہونا، سر درد اور سستی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ چائے میں موجود تیزابیت اور چینی کے ملاپ سے دانتوں کی اینامل کمزور ہو سکتی ہے، جس سے دانت پیلے پڑنے اور ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ دن کا آغاز پانی یا ہلکی غذا کے ساتھ کیا جائے اور چائے کو صرف اعتدال میں پیا جائے تاکہ یہ عادت صحت پر منفی اثر نہ ڈالے۔
read more….qaumiawaz.com






