بہار کے ویشالی ضلع میں ایک معمولی جھگڑا بڑے ہنگامے میں بدل گیا۔ جمعرات کی رات مہوا سب ڈویژن کے راجا پاکڑ تھانہ علاقے کے بھلوئی گھاٹ میں آئس کریم کے پیسے نہ دینے کے معاملے پر دو گروپوں کے درمیان تنازعہ شروع ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ مار پیٹ میں تبدیل ہو گیا اور گاؤں کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی ڈائل-112 کی پولیس ٹیم موقع پر پہنچی تاکہ حالات کو قابو میں کیا جا سکے، لیکن مشتعل ہجوم نے پولیس ٹیم پر ہی حملہ کر دیا۔
اس اچانک حملے میں تھانیدار راجیش رنجن سمیت چار پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جن میں ایک خاتون سپاہی بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔ حملے کے دوران مشتعل بھیڑ نے پولیس کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کی اور ایک پولیس افسر کی رائفل چھین لی۔ تاہم مقامی لوگوں کی مداخلت کے بعد بعد میں اسلحہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
واقعہ کے بعد پورے علاقے میں افرا تفری مچ گئی اور گاؤں کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مہوا ایس ڈی پی او اور بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ ویشالی کے ایس پی للت موہن شرما نے بتایا کہ ابتدائی جھگڑا آئس کریم کے پیسے دینے کے مسئلے پر ہوا تھا جو بڑھتے بڑھتے بڑے تصادم میں بدل گیا۔ پولیس نے موقع سے تین افراد کو گرفتار کیا ہے اور مزید لوگوں کی شناخت کر کارروائی جاری ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک معمولی بات بڑے تنازعے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ فی الحال پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات ہے اور حالات قابو میں بتائے جا رہے ہیں، جبکہ زخمی پولیس اہلکاروں کا علاج جاری ہے۔
read more…..qaumiawaz.com






