امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیے جانے کے بعد مجموعی امریکی ٹیرف کی شرح اب 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ فیصلہ 27 اگست 2025 سے مؤثر ہوا، جس کے تحت وہ ہندوستانی مصنوعات جو مذکورہ تاریخ کو یا اس کے بعد امریکہ لائی گئیں یا گودام سے نکالی گئیں، ان پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، بشرطیکہ وہ امریکی منڈی میں استعمال کے لیے ہوں۔
یہ ٹیرف خاص طور پر ہندوستان کے ٹیکسٹائل، جواہرات، مشینری، زرعی مصنوعات، پروسسڈ فوڈ، دھاتوں اور ہینڈی کرافٹس جیسے اہم سیکٹروں کو متاثر کرے گا۔ امریکہ کو بھارت سے سالانہ تقریباً 10.9 ارب ڈالر کا ٹیکسٹائل اور 10 ارب ڈالر کا ڈائمنڈ و جویلری برآمد کیا جاتا ہے، جو اب مہنگے ہونے کی وجہ سے امریکی خریداروں کے لیے کم پرکشش ہو سکتے ہیں۔
کریسیل ریٹنگز کے مطابق، اضافی ٹیرف کے باعث کچھ مصنوعات کی برآمدات میں 70 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ اس سے ہندوستان کا 30 سے 35 ارب ڈالر کا برآمداتی شعبہ متاثر ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جھینگے، آرگینک کیمیکلز، زیورات، مشینری، فرنیچر اور بیڈ جیسے آئٹمز کی ایکسپورٹ کو بڑا دھچکہ لگنے کا امکان ہے۔
تاہم فارما، اسمارٹ فونز، دیگر الیکٹرانک آئٹمز اور پٹرولیم مصنوعات کو ٹیرف سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ امریکہ کی ناراضی کی اصل وجہ ہندوستان کا روس سے تیل خریدنا بتایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ہندوستان کو 21 دن کی مہلت دی تھی، لیکن کسی معاہدے پر پیش رفت نہ ہونے کے سبب 50 فیصد ٹیرف لاگو کر دیا گیا۔
read more….qaumiawaz.com






