واشنگٹن:امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے پر اصرار کیا لیکن خبردار کیا کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ تہران کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ رہنماؤں کی ملاقات وائٹ ہاؤس میں اس وقت ہوئی جب پورے مشرق وسطیٰ میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو روکنے کے لیے بات چیت تیز ہو رہی ہے۔
نیتن یاہو سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ایک ایسےمعاہدے پر عمل درآمد کریں جس سے نہ صرف ایران کی یورینیم کی افزودگی روک دی جائے گی بلکہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور حماس اور حزب اللہ جیسے پراکسی گروپوں کی حمایت میں بھی کمی آئے گی۔
ایران نے تجویز دی ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے دیگر مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اجلاس سے قبل، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خبردار کیا کہ ان کا ملک “ان کے ضرورت سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کرے گا”۔
نتن یاہو کا یہ دورہ ٹرمپ کے دفتر میں واپسی کے بعد سے امریکہ کا ان کا چھٹا دورہ ہے جو کسی بھی دوسرے عالمی رہنما سے زیادہ ہے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ رہنماؤں کے درمیان ملاقات “بہت اچھی” رہی۔ انہوں نے کہا کہ “اس کے علاوہ کوئی حتمی بات نہیں ہوئی جس پر میں نے اصرار کیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے ۔
منگل کو واشنگٹن پہنچنے کے بعد نیتن یاہو نے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ان دونوں نے “گزشتہ جمعہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کی پیش رفت فراہم کی”۔
نیتن یاہو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام ہو جاتا ہے اور مظاہرین کو مارنا بند نہیں کرتا تو اس کے انجام سنگین ہوں گے۔
