’آرگن ڈونیٹ‘ کرنا اپنی موت کے بعد بھی کسی کو زندگی دے کر جانے کے مترادف ہے۔ کیرالہ میں ایک 10 ماہ کی بچی ریاست کی سب سے کم عمر کی ’آرگن ڈونر بن‘ گئی ہے۔ اس کے بعد ریاست کے گورنر راجندر وشوناتھ ارلیکر اور وزیر اعلیٰ پنارائی وجین سمیت مختلف شخصیات نے اس بچی کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی اس کے اعضاء عطیہ کرنے کے حوالے سے والدین کے فیصلے کی تعریف بھی کی ہے۔
لوگ بچی کے والدین کے اس عظیم کارنامے کو ہمدردی کی ایک بہترین مثال اور پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام قرار دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آلن شیرین ابراہم 5 فروری کو کوٹائیم میں پلم کے قریب ایک سڑک حادثے میں شدید طور پر زخمی ہو گئی تھی۔ جمعرات (13 فروری) کو کوچی کے ایک نجی ہسپتال میں بچی کو ’برین ڈیڈ‘ (دماغی موت) قرار دے دیا گیا۔ افسران کے مطابق والدین کی رضامندی سے بچی کے 6 اعضا عطیہ کیے گئے، جس کے بعد وہ ریاست کی سب سے کم عمر ’آرگن ڈونر‘ بن گئیں۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں گورنر راجندر وشوناتھ ارلیکر نے کہا کہ وہ ارون ابراہام اور شیرین این جان کے فیصلے سے بے حد متاثر ہیں، جنہوں نے ایک حادثے میں اپنی بیٹی کی المناک موت کے بعد اس کے 6 اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپنے بے لوث فیصلے سے انہوں نے دوسروں کو زندگی اور امید عطا کی ہے۔ خدا ننھی آلن کی روح کو سکون دے۔ میری تمام تر ہمدردیاں اس غمزدہ خاندان کے ساتھ ہیں۔







