افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ 9 اکتوبر کو پاکستان نے تحریک طا لبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو کابل، خوست، جلال آباد، اور پکتیکا، افغانستان میں نشانہ بناتے ہوئے کئی فضائی حملے کیے تھے۔ افغانستان نے ان پاکستانی فضائی حملوں کا جواب دیا۔ افغانستان کی 201 ویں خالد بن ولید آرمی کور نے گیارہ اکتوبر کو دیر گئے ننگرہار اور کنڑ صوبوں میں ڈیورنڈ لائن کے قریب پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملے شروع کیے۔
افغانستان میں حکمران طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے طلوع نیوز کو بتایا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی فورسز نے متعدد پاکستانی پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے، جب کہ کنڑ اور ہلمند صوبوں میں افغان سرحد کے ساتھ ایک ایک پاکستانی چوکی کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق افغان سرحدی فورسز اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان آج صبح سے صوبہ پکتیا کے ضلع رب جاجی میں جھڑپیں جاری ہیں۔
طلوع نیوز نے ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ افغان اور پاکستانی افواج کے درمیان جھڑپوں میں اب تک 12 پاکستانی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو چکے ہیں۔ پاکستانی فوج کو آمنے سامنے لڑائی میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے جس میں فوجی تنصیبات کو بھی خاصا نقصان پہنچا ہے۔ افغان فوجیوں نے پاکستانی فوجیوں سے اسلحہ بھی قبضے میں لے لئے ہیں۔
مقامی ذرائع نے طلوع نیوز کو بتایا کہ جھڑپیں رات گئے تک جاری رہیں۔ طلوع نیوز نے طالبان کے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ افغان فوجیوں نے دشمن کی کئی چوکیوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ جمعہ کی رات گئے کابل میں ہونے والے دو دھماکوں کے بعد، طالبان کی حکومت نے پاکستان پر اپنے ایک سرحدی قصبے پر فضائی حملے کرنے اور افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔






