ایئر انڈیا کے لیے بحران کا دور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایئر انڈیا کے ایک جہاز کے ٹربولنس میں جانے کے بعد پائلٹوں کی جانچ تیز ہو گئی ہے، اس ضمن میں ٹیسٹنگ کے دوران 2 اور پائلٹ ڈرگ ٹیسٹ میں فیل ہو گئے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں پائلٹوں کے فائنل ٹیسٹ ریزلٹ کا انتظار ہے۔ لیکن فائنل رپورٹ آنے تک ان دونوں پائلٹوں کی ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے اور فلائٹ روسٹر سے نام ہٹا دیا گیا ہے۔ ڈرگ ٹیسٹ کے دوران ایئر انڈیا کے 2 اور پائلٹ شروعات جانچ میں ڈرگ ٹیسٹ میں پازیٹیو پائے گئے ہیں۔ ان دونوں پائلٹوں کی فائنل ٹیسٹ رپورٹ ابھی آنی ہے۔ واضح رہے کہ اب تک ایئر انڈیا کے 300 سے زیادہ پائلٹوں کا ڈرگ ٹیسٹ کرایا جا چکا ہے۔
فی الحال فائنل ٹیسٹ رپورٹ آنے میں تقریباً 48 گھنٹے یا اس سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ فائنل رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ دونوں پائلٹوں کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔ اس سے قبل فوکیٹ سے دہلی آرہے ایئر انڈیا کے ایک جہاز کے ٹربولنس میں جانے کے حادثے کے بعد ایئر انڈیا نے ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس کے اپنے سبھی پائلٹوں کے ڈرگ استعمال سے متعلق ٹیسٹ کرانے کی بات کہی تھی۔ ذرائع کے مطابق ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس اپنے سبھی پائلٹوں کی ’سائکو ایکٹیو مادے‘ کے لیے ضروری جانچ شروع کرے گی۔ یہ قدم اصول و ضوابط کے تقاضوں سے ہٹ کر تحقیقات کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، کیوں کہ فوکیٹ- دہلی پرواز کے ایک مین کیپٹن ’ماریجوانا‘ یعنی گانجہ جانچ رپورٹ پازیٹیو آئی تھی۔ پرواز کے دوران جہاز کی بلندی کم ہو گئی تھی۔ یہ جہاز پرواز کے دوران اچانک 300 فٹ نیچے آگیا تھا۔
ٹاٹا گروپ کی ان دونوں ایئرلائنس میں کل ملا کر 5000 سے زیادہ پائلٹس ہیں۔ ایئر لائنس کمپنی نے گزشتہ ہفتے پائلٹوں کو بھیجے ایک انٹرنل پیغام میں کہا کہ مکمل جانچ میں موجودہ ’ایوی ایشن ضوابط‘ کے تحت ممنوعہ اشیاء اور ادویات کی جانچ شامل ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ جانچ لازمی ہے۔ یہ ٹیسٹ گروگرام اکادمی میں ٹریننگ سیشن کے ساتھ ساتھ، پرواز کے بعد بریفنگ مراکز، یہ ایئر لائنز کے دفاتر یا متعلقہ بیس کی طرف سے فراہم کردہ جگہوں پر کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ مسافروں، اسٹیک ہولڈرز اور عام لوگوں کو بھروسہ دلانے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کے اعلی سطحی معیار کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 4 اگست کو فوکیٹ- دہلی فائلٹ نمبر ’اے آئی 2379‘ ٹربولنس کی وجہ سے ایئر بس اے 320 جہاز اچانک 300 فٹ نیچے آگیا تھا۔ اس وجہ سے کم از کم 24 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ جہاز میں 137 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سمیت کل 145 افراد سوار تھے۔ جہاز کے مین پائلٹ کی جانچ میں گانجے کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔
