اتراکھنڈ حکومت نے مقررہ منظوری اور تعلیمی معیار پر عمل نہ کرنے والے مدارس کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق محکمۂ اقلیتی فلاح و بہبود اور مقامی انتظامیہ کی مشترکہ ٹیموں نے ریاست کے دہرادون اور ہلدوانی میں ایسے کئی مدارس کو سیل کیا ہے، جو غیر منظور شدہ تھے۔ خبر کے مطابق اب تک 20 مدارس کو مکمل طور پر بند کرا دیا گیا ہے۔
اتراکھنڈ کے محکمۂ اقلیتی فلاح و بہبود کے خصوصی سکریٹری پراگ مدھوکر دھکاتے کے مطابق دہرادون کے 3 مدارس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آزاد کالونی میں واقع مدرسہ جامعۃ السلام الاسلامیہ کو انتظامیہ نے سیل کر دیا ہے۔ وہیں آزاد کالونی (ماجرا) میں واقع مدرسہ دارالارقم اور مدرسہ دارالعلوم رحیمیہ کی انتظامیہ نے تحریری طور پر مدرسہ بند کرنے کی اطلاع دی ہے۔ دھکاتے نے کہا کہ ریاست میں اب تک 17 مدارس کو سیل کیا جا چکا ہے، جبکہ 3 دیگر مدارس کی انتظامیہ نے مدرسہ بند کرنے کی تحریری اطلاع دی اور تصدیق کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں کل 20 غیر منظور شدہ مدارس کو بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نینی تال ضلع کے ہلدوانی میں بھی 2 غیر منظور شدہ مدارس کو سیل کرنے کی کارروائی کی گئی ہے۔ یہاں گوجاجلی شمال میں شنی بازار روڈ پر واقع مدرسہ جامعہ نوریہ برکاتے امینہ اور اندرا نگر، بنبھول پورہ میں واقع ایک دیگر غیر منظور شدہ مدرسے کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔
ہلدوانی نگر مجسٹریٹ اے بی واجپئی نے بتایا کہ متعلقہ مدرسہ انتظامیہ سے منظوری سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ضروری دستاویزات پیش نہ کیے جانے پر اصول و ضوابط کے مطابق سیل کرنے کی کارروائی کی گئی۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے سخت ہدایات دی ہیں کہ ریاست میں کوئی بھی تعلیمی ادارہ مقررہ قوانین اور منظوری سے متعلق ضروریات کو پورا کیے بغیر نہیں چلنا چاہیے۔ ریاست میں نافذ نئے نظام کے تحت حکومت کا مقصد اقلیتی تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کو سختی سے نافذ کرتے ہوئے بچوں کے لیے جدید اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر اعلیٰ دھامی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بچوں کے مستقبل یا تعلیم کے معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
