نئی دہلی میں ایک بار پھر جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلبہ اور پولیس کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی، جب جے این یو طلبہ یونین کی قیادت میں نکالا جانے والا لانگ مارچ تصادم میں بدل گیا۔ اپنی مانگوں کے حق میں نکلنے والے طلبہ کو اُس وقت روک دیا گیا جب وہ مرکزی دروازے سے باہر نکل کر وزارتِ تعلیم کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دوران دونوں جانب سے دھکا مکی اور نوک جھونک ہوئی جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی کارروائی میں کئی طلبہ زخمی ہوئے، جن میں طالبات بھی شامل ہیں۔ طلبہ کا الزام ہے کہ اُن کا مارچ پُرامن تھا لیکن پولیس نے طاقت کا بے جا استعمال کیا۔ بعض طلبہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقامات پر منتقل کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ کچھ زخمیوں کو فوری طبی امداد بھی فراہم نہیں کی گئی۔
جے این یو طلبہ یونین نے الزام لگایا کہ منتخب عہدیداران کو نشانہ بنایا گیا۔ یونین کی صدر ادیتی مشرا، سابق صدر نتیش کمار اور دیگر کئی طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔ یونین نے سوشل میڈیا کے ذریعے طلبہ سے اپیل کی کہ رات نو بجے مرکزی دروازے پر جمع ہو کر وسنت کنج تھانے کی طرف مارچ کریں اور حراست میں لیے گئے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں۔
یہ احتجاج یونیورسٹی کی وائس چانسلر شانتی شری دھولی پوڑی پنڈت کے حالیہ بیان، یو جی سی ضوابط کے نفاذ، طلبہ یونین عہدیداران کے اخراج اور مجوزہ روہت ایکٹ سے متعلق جاری تنازعے کے پس منظر میں کیا جا رہا تھا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح طور پر مطلع کیا تھا کہ کیمپس سے باہر کسی بھی احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق تقریباً چار سے پانچ سو طلبہ جمع ہوئے اور رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی۔ ایک سینئر افسر کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے لاٹھیاں اور جوتے پھینکے، جس سے کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ کچھ اہلکاروں کو کاٹا بھی گیا۔
پولیس کے مطابق حالات قابو میں رکھنے کے لیے محدود طاقت استعمال کی گئی اور مظاہرین کو شمالی دروازے سے واپس کیمپس میں دھکیل دیا گیا۔ حراست میں لیے گئے طلبہ کے بارے میں کہا گیا کہ بعض افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کر رہے تھے، اسی لیے انہیں روکا گیا۔
ادھر جواہر لال نہرو یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے اور حراست میں لیے گئے طلبہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اساتذہ کے ایک وفد نے ایڈیشنل ڈی سی پی سے ملاقات کر کے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی اپیل کی۔فی الحال جے این یو کے مرکزی دروازے اور وسنت کنج تھانے کے باہر کشیدہ ماحول برقرار ہے اور طلبہ اپنی آئندہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔
