کانگریس نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی تجارتی معاہدہ پر امریکہ سے دوبارہ بات چیت نہیں کر سکتے، وہ پھر سے خود سپردگی کر دیں گے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی، دونوں نے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
دراصل امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گلوبل ٹیرف کو خارج کر دیا، جس سے ٹرمپ کے معاشی ایجنڈے کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ ججوں نے اکثریت سے سنائے گئے فیصلہ میں کہا کہ آئین بہت واضح طور سے امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) کو ٹیکس لگانے کی طاقت دیتا ہے، جس میں ٹیرف بھی شامل ہے۔ عدالت نے صدر ٹرمپ کے ذریعہ بغیر مشورہ کئی ممالک پر عائد کیے گئے ٹیرف کو غلط بتایا۔ حالانکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر ڈونالڈ ٹرمپ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
اس تعلق سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ ان کا دھوکہ اب سامنے آ گیا ہے۔ وہ (تجارتی معاہدہ پر) دوبارہ بات چیت نہیں کر سکتے۔ وہ پھر سے خود سپردگی کر دیں گے۔‘‘ راہل گاندھی ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر قبل میں بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں اور اسے خاص طور سے ہندوستانی کسانوں کے لیے انتہائی مضر قرار دیا ہے۔
کانگریس کے موجودہ صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے بھی اس معاملہ میں اپنی شدید فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ ’’بغیر سر اور پیر والی خارجہ پالیسی یا یکطرفہ خودسپردگی؟ جس ’ٹریپ ڈیل‘ نے ہندوستان سے بھاری رعایتیں لیں، مودی حکومت نے اس میں پھنسنے سے پہلے ٹیرف پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کیوں نہیں کیا؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’مشترکہ بیان میں ہندوستان کو ہونے والے کئی امریکی برآمدات پر صفر ٹیکس کی بات کہی گئی ہے، جس سے ہندوستانی زرعی شعبہ کا دروازہ امریکی سامانوں کے لیے کھل جائے گا۔ ساتھ ہی 500 ارب امریکی ڈالر قیمت کے امریکی سامان درآمد کرنے کا منصوبہ، ہماری توانائی سیکورٹی کو نقصان پہنچانے والے روسی تیل کی خرید پر روک لگانے کا عزم اور ڈیجیٹل محاذ پر کئی ٹیکس رعایتوں کی باتیں مشترکہ بیان میں کہی گئی ہیں۔







