کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جئے رام رمیش نے مودی حکومت کی ’ای 20‘ پالیسی کو ’دور اندیشی سے عاری اور عوام مخالف‘ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی اس پالیسی کے باعث ایک طرف مہنگائی بڑھ رہی ہے، تو دوسری طرف گاڑی مالکان کو کم مائلیج اور گاڑیوں کے خراب ہونے کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو اس پالیسی کا خمیازہ سڑک اور باورچی خانے، دونوں جگہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری بیان میں کہا کہ جب گنے اور اناج سے تیار کیا جانے والا ایتھنول پٹرول میں 20 فیصد تک ملایا جائے گا تو اس کا براہ راست اثر ان اشیا کی دستیابی پر پڑے گا جو گنے اور اناج سے تیار ہوتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسری طرف وہ گاڑیاں، جو 20 فیصد ایتھنول کے استعمال کے لیے تیار نہیں ہیں، ان کے خراب ہونے کا خطرہ بھی رہے گا۔ ان کے مطابق مناسب جانچ کے بغیر ای-20 استعمال کرنے والی گاڑیوں میں مائلیج کم ہونے کا خدشہ ہے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ 25 لاکھ ٹن چینی تیار کرنے لائق گنّا ایتھنول بنانے میں استعمال ہو گیا، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ 3 ماہ کے دوران چینی کی قیمت 48 روپے سے بڑھ کر 67 روپے فی کلو اور گڑ کی قیمت 50 روپے سے بڑھ کر 65 روپے فی کلو ہو گئی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چاول اور مکئی کا آٹا بھی بالترتیب 16 فیصد اور 11 فیصد مہنگا ہو گیا ہے، جبکہ جانوروں کی خوراک کی قیمت میں 10.34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔







