سہارنپور ضلع کلکٹریٹ واقع مسجد کو منہدم کیے جانے کے معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے آج کچھ اہم احکامات جاری کیے۔ ہائی کورٹ نے اتر پردیش کی یوگی حکومت سے جوابی حلف نامہ طلب کیا ہے، جس کے لیے 3 ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ کی جانب سے مسجد پر 6 کروڑ 41 لاکھ روپے ہرجانہ عائد کیے جانے کے معاملہ پر روک لگا دی ہے۔ یعنی فی الحال مسجد کمیٹی کو پنالٹی جمع نہیں کرنا ہوگا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق الٰہ آباد ہائی کورٹ نے فریق مخالف نمبر 2 کو نوٹس جاری کیا ہے اور آئندہ سماعت کے لیے 12 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ عدالت میں یہ درخواست مسجد کمیٹی کے متولی محمد تنویر احمد کی جانب سے داخل کی گئی ہے، جس پر جسٹس روہت رنجن اگروال کی سنگل بنچ نے آج سماعت کی۔ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 227 کے تحت محمد تنویر احمد کی جانب سے داخل کی گئی اس درخواست میں سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ کی جانب سے 16 جولائی 2026 کو جاری حکم اور سہارنپور کے ضلع جج کی جانب سے 2 ستمبر 2026 کو جاری حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس رِٹ پٹیشن میں ضلع مجسٹریٹ سہارنپور کے ذریعہ اتر پردیش حکومت اور کلکٹریٹ احاطہ کی مسجد کے مولوی عبد الحمید کو فریق مخالف بنایا گیا ہے۔
داخل کردہ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سٹی مجسٹریٹ اور ضلع جج کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات ان کے دائرۂ اختیار اور قانونی اختیارات سے باہر ہیں۔ سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ نے 16 جولائی 2026 کو جاری اپنے حکم کے تحت احاطہ خالی کرنے اور 6 کروڑ 41 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ سٹی مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف اپیل داخل کی گئی تھی، جسے ضلع جج نے 2 ستمبر 2026 کو خارج کر دیا۔ ضلع جج کے حکم کے بعد حکام نے 5 ستمبر کی صبح کلکٹریٹ احاطے میں 315 مربع میٹر رقبے پر بنی مسجد کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔







