نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے سال 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق مقدمے میں ملزم شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر دہلی پولیس سے جواب طلب کرتے ہوئے اسے دو ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی آئندہ سماعت 27 اگست کو مقرر کی ہے۔ شرجیل امام جنوری 2020 سے جیل میں قید ہیں اور ان کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے۔
دہلی ہائی کورٹ میں شرجیل امام کی جانب سے دائر فوجداری اپیل پر سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اپنا مؤقف پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دہلی پولیس کے جواب داخل کرنے کے بعد درخواست گزار کو جواب الجواب داخل کرنے کے لیے مزید دو ہفتوں کا وقت دیا جائے گا۔
شرجیل امام کے وکیل احمد ابراہیم کے مطابق عدالت نے ان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے اپنا موقف پیش کرنے کو کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اس مقدمے کی اگلی سماعت 27 اگست کو ہوگی۔
وکیل نے بتایا کہ شرجیل امام کی درخواست ضمانت بنیادی طور پر دو قانونی نکات پر مبنی ہے۔ پہلا نکتہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے متعلق ہے، جس میں ضمانت کے اصولوں اور طویل عرصے تک عدالتی تحویل میں رہنے والے ملزمان کو ریلیف دیے جانے کے قانونی پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی تھی۔ ان کے مطابق، شرجیل امام کے معاملے میں بھی انہی اصولوں کا اطلاق ہونا چاہیے، کیونکہ وہ تقریباً 6 برس سے جیل میں ہیں۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک اور فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے طویل عرصے سے جیل میں بند ملزمان کے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض رہنما اصول وضع کیے ہیں۔ وکیل کے مطابق، انہی قانونی اصولوں کی بنیاد پر اس مقدمے کے شریک ملزم تسلیم احمد کو دہلی ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل ہوئی تھی، لہٰذا شرجیل امام کے معاملے میں بھی یکساں قانونی معیار اختیار کیا جانا چاہیے۔
