ہندوستان نے پیر یعنی 8 دسمبرکو اپنے شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ چین کا سفر کرتے وقت یا دوسری منزلوں تک پہنچنے کے لیے چین سے گزرتے وقت مناسب احتیاط برتیں۔ نئی دہلی نے اپنے شہریوں کے لیے یہ ایڈوائزری اروناچل پردیش کی ایک خاتون کو شنگھائی ہوائی اڈے پر حراست میں لیے جانے کے دو ہفتے بعد جاری کی جب چینی حکام نے اس کے ہندوستانی پاسپورٹ کو ٹرانزٹ کے دوران درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، “ہم توقع کرتے ہیں کہ چینی حکام اس بات کی یقین دہانی کرائیں گے کہ چینی ہوائی اڈوں سے گزرتے وقت ہندوستانی شہریوں کو منتخب طور پر نشانہ نہیں بنایا جائے گا، من مانی طور پر حراست میں نہیں لیا جائے گا، یا ہراساں نہیں کیا جائے گا، اور یہ کہ چینی فریق بین الاقوامی ہوائی سفر کے ضوابط کا احترام کریں گے۔
رندھیر جیسوال نے یہ بیان 21 نومبر کو اروناچل پردیش میں پیدا ہوئی ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دیا، انہوں نے کہا، ’’وزارت خارجہ ہندوستانی شہریوں کو چین کا سفر کرتے ہوئے احتیاط برتنے کا مشورہ دیتی ہے‘‘۔
اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی ہندوستانی شہری پریما وانگجوم تھونگ ڈوک نے الزام لگایا کہ انہیں 21 نومبر کو لندن سے جاپان جاتے ہوئے تین گھنٹے کے اسٹاپ اوور کے دوران چینی امیگریشن حکام نے 18 گھنٹے تک حراست میں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اہلکاروں نے ان کا ہندوستانی پاسپورٹ قبول کرنے سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ان کی جائے پیدائش کی جگہ اروناچل پردیش لکھا ہوا ہے اور اروناچل پردیش چین کا حصہ ہے۔






