ابوظہبی : ابوظہبی میں دنیا کی مشہور یاس مرینا کے اوپر دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا ہے کیونکہ ایران نے یو اے ای پر ایک اور ڈرون حملہ کیا ہے۔دبئی میں عوام سائرن بجتے ہی محفوظ مقامات پر پہنچ گئے ہیں کیونکہ ایرانی حکومت نے اسرائیل، امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں کو شدید نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔دبئی، ابوظہبی اور فجیرہ میں وارننگ جاری کیے گئے ہیں، جن میں مقامی عوام اور سیاحوں کو محفوظ رہنے کیلئے خبردار کیا گیا ہے جب کہ یو اے ای کی جانب سے 131 خودکش ڈرونز کی بیراج کے بعد اسے بالسٹک میزائل اور 6 ڈرون سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس درمیان ایران کے پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک سکتے ہیں اور ایک بوند تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے۔پاسداران انقلاب کے مطابق اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں نے خطہ میں مزید دباؤ بڑھایا تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے سمیت سخت اقدامات کر سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی سمندر میں میزائل اور ڈرون کے علاوہ ان کی بڑی طاقت ظاہر نہیں کی گئی۔ادھر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گی تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر کہ امریکہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گا ایرانی پاسداران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے چیلنج کر دیا ہے۔اسی دوران کویت کی ایک بندرگاہ کے قریب دھماکے کے بعد ایک کارگو ٹینکر سے سمندر میں تیل رسنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔حملے کے خطرہ کے خوف سے قطر نے بھی آبنائے ہرمز سے گیاس کی سپلائی کو معطل کردیا ہے۔ ان حالات میں عالمی سطح پر تیل کے بحران کا اندیشہ ہے۔







