ہماچل پردیش میں حالیہ شدید برفباری نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ریاست میں تین قومی شاہراہوں سمیت تقریباً 655 سڑکیں اب بھی آمدورفت کے لیے بند ہیں، جس کے باعث کئی اضلاع کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ برفباری کے نتیجے میں بجلی کا نظام بھی شدید طور پر متاثر ہوا ہے اور سینکڑوں ٹرانسفارمر خراب ہونے کی وجہ سے ہزاروں ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق سب سے زیادہ سڑکیں لاہو
برفباری کے باعث ریاست میں مجموعی طور پر 669 ٹرانسفارمر خراب ہو چکے ہیں۔ کلو میں 216، شملہ میں 214، چمبا میں 104، منڈی میں 94، لاہول اور اسپیتی میں 22، سرمور میں 13 اور کنور میں چھ ٹرانسفارمر خراب ہونے سے کئی شہری علاقوں اور دیہی بستیوں میں اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ بجلی بحال کرنے کے لیے محکمۂ توانائی کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں، تاہم موسم کی خرابی مرمتی کام میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
اسی دوران ریاست کے بلند پہاڑی علاقوں، خصوصاً کنور اور لاہول و اسپیتی میں ہلکی برفباری اور بارش کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ دیگر علاقوں میں موسم عموماً صاف رہا۔ محکمہ موسمیات نے 30 جنوری کو بلند علاقوں میں ہلکی برفباری اور بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 31 جنوری سے 3 فروری کے درمیان ریاست میں ایک اور شدید موسمی دور متوقع ہے، جس کے دوران بھاری برفباری اور بارش ہو سکتی ہے۔ یکم فروری کے لیے بھاری برفباری اور بارش کا یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 30 جنوری کو اونا، بلاسپور، ہمیرپور، کانگڑا، منڈی، سولن اور سرمور اضلاع میں گھنے کہرے اور شیت لہر کے پیش نظر یلو الرٹ نافذ کیا گیا ہے۔شملہ ضلع میں 135، کلو میں قومی شاہراہ اوٹ-لُہری-سینج سمیت 81، منڈی میں 77، چمبا میں 40، کنور میں 27 جبکہ سرمور اور اونا میں تین تین سڑکیں بند ہیں۔ کانگڑا ضلع میں بھی دو سڑکیں بند ہونے کی اطلاع ہے۔







