ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ پیر کے روز سے ایران کی بدرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکیوں کے بعد آج تیل بازار میں اچانک زلز لہ آگیا۔ اس دوران عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اُچھال دیکھا گیا ہے۔ شروعاتی کاروبار میں اتوار کے روز امریکی خام تیل کی قیمت 8 فیصد بڑھ کر 104.24 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا جس کے بعد ایک بار پھرعالمی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک پہنچتی نظر آرہی ہے۔ اسلام آباد میں 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے امن مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہونے کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ(سی ای این ٹی سی اوایم) نے پیر کی شام (ہندوستانی وقت کے مطابق) ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے جب کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔
’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں امریکہ۔ ایران مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان مذاکرات کو امریکہ سے زیادہ ایران کے لیے خراب قرار دیا۔ اس دوران ایران نے امریکہ کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اچانک اضافے کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑا ہے۔ اس دوران ڈونالڈ ٹرمپ بھی جارحانہ موقف اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر دوبارہ حملہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے فوری بعد بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 8 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 104.24 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 7 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 102.29 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ وہیں قدرتی گیس کی قیمتیں بھی تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 2.684 ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس سے قبل دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد قیمتیں گر گئی تھیں، جون کی ترسیل کے لیے برینٹ کروڈ کی قیمت 95 ڈالر تک گر گئی تھی۔ ایران طویل عرصہ سے عالمی تیل سپلائی کے لیے اہم آبنائے ہرمز پر کافی کنٹرول رکھتا رہا ہے۔







