نئی دہلی: ایران میں اچانک انٹرنیٹ کی بندش کے بعد وہاں زیر تعلیم ہندوستانی میڈیکل طلبہ اور ان کے اہل خانہ میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ خاص طور پر جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے والدین میں بچوں سے رابطہ نہ ہو پانے کے باعث بے چینی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ اس صورتحال پر آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور فایما ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر محمد مومن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں موجود تمام ہندوستانی طلبہ محفوظ ہیں اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ڈاکٹر محمد مومن نے آئی اے این ایس سے گفتگو میں بتایا کہ انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود کئی طلبہ نے متبادل ذرائع کی مدد سے ان سے رابطہ قائم کیا۔ بعض طلبہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عراق کی سرحد کے قریب گئے، جہاں سے انہوں نے ذاتی طور پر ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے اپنی خیریت سے آگاہ کیا۔ ان پیغامات میں طلبہ نے واضح کیا کہ وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایران میں تقریباً تین ہزار ہندوستانی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن میں 2000 سے زائد ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس جیسے میڈیکل کورسز میں داخل ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ 1800 طلبہ کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے۔ ڈاکٹر مومن کے مطابق وہ ان تمام طلبہ سے براہ راست رابطے میں ہیں اور مسلسل ان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔






