امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم شخصیات کی موت نے ایران کو مزید برہم کر دیا ہے۔ ایران نہ صرف اسرائیل پر حملے کر رہا ہے، بلکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی و اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی ہدف بنا رہا ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے جنگ میں شدت پیدا ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف ایران دشمن ممالک کے ہر حملے کا جواب پوری طاقت سے دے رہا ہے، دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ لگاتار ایران کو خودسپردگی کی تنبیہ کر رہے ہیں۔
اس جنگ کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں تو دیکھنے کو ملی ہی ہیں، مالی نقصانات بھی بھرپور انداز میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ عالمی سطح پر معاشی حالات خراب ہونے کا ایک نیا دور بھی شروع ہو چکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں مجموعی طور پر تقریباً 900 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے منگل کے روز جو بیان دیا ہے، اس میں بتایا ہے کہ ہفتہ کے روز شروع ہوئی جنگ کے بعد سے اب تک ایران میں 787 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ریڈ کریسنٹ نے یہ بھی جانکاری دی کہ اب تک 153 شہروں اور 500 سے زیادہ مقامات پر 1000 سے زیادہ حملے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایران حامی تنظیم حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر حملے کیے ہیں۔ جواب میں اسرائیلی کارروائی کے دوران لبنان میں کم از کم 52 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں امریکی فوجیوں کی بھی موت ہوئی ہے، جن میں 6 فوجیوں کی موت سے متعلق امریکہ نے تصدیق بھی کر دی ہے۔ علاوہ ازیں یو اے ای میں 3 اموات اور کویت و بحرین میں ایک ایک اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ چونکہ حملے دونوں طرف سے جاری ہیں، اس لیے لگاتار نئے اپڈیٹس سامنے آ رہے ہیں۔ متعلقہ ممالک کے سرکردہ لیڈران کے بیانات بھی جاری ہو رہے ہیں، جو حالات کو مزید کشیدہ بنا رہے ہیں۔
