غزہ: فلسطین میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ تباہ حال غزہ میں آج مسلسل دوسری عید الفطر منائی گئی مگر فلسطینی عوام کیلئے یہ دن خوشیوں کے بجائے غم کا پیغام لیکر آیا ہے۔عید کے موقع پر بھی اسرائیل نے خان یونس میں فضائی اور زمینی حملے کیے ۔غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو عید کی خوشیاں نہیں دے سکتے کیونکہ روزگار ختم ہو چکا ہے اور سرحدوں کی بندش نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ ایک شہری نے کہاکہ ہم بھی انسان ہیں، کیا ہمارے بچوں کو خوش رہنے کا حق نہیں؟اب تک اسرائیلی بمباری میں 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔، جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ غزہ کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، اور لاکھوں شہری خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب تل ابیب میں ہزاروں افراد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہفتے کی رات کو ہزاروں شہریوں نے تل ابیب سمیت دیگر شہروں میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف مظاہرے کیے۔رپورٹ کے مطابق مظاہرین کی جانب سے غزہ جنگ بندی ڈیل کو مکمل کرنے اور غزہ میں موجود بقیہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ واضح رہے اسرائیل نے چند دن قبل جنگ بندی معاہدے کو ٹوڑتے ہوئے غزہ پر دوبارہ حملے شروع کردیے تھے جس کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔دوسری جانب 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد اب 50 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔