Akhbarurdu Logo
  • Home
  • اردو خبریں
    • قومی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
X
  • Home
  • اردو خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
Akhbarurdu Logo
  • Urdu Dictionary
  • Naat Online
  • Hajj 2025
  • Regional Newspapers
Home اردو قومی خبریں

جماعتِ اسلامی ہند نے ملک گیر SIR پر اٹھائے کئی اہم سوال

ملک معتصم خان نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کو شہریت کی تصدیق کے طور پر نہیں کیا جانا چاہئے

Akhbar Urdu by Akhbar Urdu
3 months ago
جماعت اسلامی ہندکی جانب سے  یوپی مدرسہ ایکٹ  کو برقرار ررکھنےکے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں کی ملک گیر ’ خصوصی نظرثانی‘ (Special Intensive Revision – SIR) کے اعلان پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بہار میں ہونے والے حالیہ SIR سے سبق سیکھنے پر زور دیتے ہوئے آ گاہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو شفافیت، انصاف اور شمولیت کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ بڑے پیمانے پر ووٹروں کے اخراج کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ “بہار میں SIR کے دوران سنگین بے ضابطگیاں اور شفافیت کی شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں تقریباً 65 لاکھ نام ووٹر لسٹوں سے حذف کر دیے گئے، جو کہ ایک غیر معمولی تعداد تھی ۔ نظرثانی کے بعد بھی 47 لاکھ ووٹرز فہرست سے خارج کر دئے گئے۔ اس پورے عمل کے دوران شہریت کا ثبوت فراہم کرنے کا پورا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا جبکہ یہ ذمہ داری حکومت کی تھی۔ اس طرح اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ نظر ثانی کے ایک انتظامی کام کو شہریت کی تصدیق کے نیم عدالتی عمل میں بدل دیا گیا۔ ملک بھر میں اس عمل کو نافذ کرنے سے پہلے الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر سے متعلق عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالوں کے تسلی بخش جوابات فراہم کرنےچاہئے۔

اس ضمن میں ملک معتصم خان نے کئی اہم سوالات اٹھائے جن کا جواب الیکشن کمیشن سے طلب کیا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ بہار کے تجربے سے کیا سبق حاصل کیا گیا اور SIR کے رہنما اصولوں میں کیا تبدیلیاں کی گئیں؟ انہوں نے کمیشن کے مقرر کردہ وقت پر بھی اعتراض کیا کہ صرف ایک ماہ میں اتنے وسیع عمل کو انجام دینا مختلف مسائل کو جنم دے گا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ اس اہم عمل کے لیے لوگوں کو مناسب وقت کیوں نہیں دیا جا رہا ہے؟ انہوں نے 2002/2003 کو کٹ آف سال برقرار رکھنے پر بھی سوال اٹھایا جبکہ ان برسوں میں کسی قسم کی شہریت کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے لیکشن کمیشن سے یہ بھی پوچھا کہ کیا مبینہ ’ غیر قانونی غیر ملکیوں ‘ کی شناخت اس عمل کا مقصد تو نہیں ہے؟ ملک معتصم خان نے یہ وضاحت بھی چاہی کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود آدھار کارڈ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر کیوں مسترد کیا جا رہا ہے ؟ جبکہ دیگر دستاویزات قبول کی جا رہی ہیں اور 2002/2003 کی ووٹر لسٹ میں درج نام کی بنیاد پر استثنا کن افراد کو حاصل ہوگا ؟ صرف اس شخص کو جس کا نام لسٹ میں شامل تھا یا اس کے بچوں کو بھی یہ راحت حاصل ہوگی؟ انہوں نے گھر گھر تصدیق کے نئے طریقۂ کار پر بھی اپنے شبہات کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کیا اس مسودہ میں نئے ووٹرروں کو شامل کرنے کی اجازت ہے؟ اور الیکشن کمیشن یہ کیسے یقینی بنائے گا کہ جمع کرائے گئے تمام فارموں کی رسید ووٹرروں کو فراہم کی جائے گی؟ ملک معتصم خان نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کئی رپورٹوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض افسران یا بوتھ لیول افسر (BLOs) نے لوگوں کی رضامندی کے بغیر فارم پُر کئے ہیں ۔ اس طرح کی جعلسازی سے بچاؤ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ انہوں نے مزدور طبقے، خاص طور پر نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کی حالت پر بھی توجہ دلائی جو عموماً کاغذات کی کمی کے باعث ووٹر فہرست سے خارج کر دئے جاتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے بہار میں خواتین کی ووٹر لسٹ میں شمولیت اور ان کی نمائندگی میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ ووٹر لسٹ سے خارج افراد کو پیشگی اطلاع اور ان کو اپنے اعتراضات درج کرانے کا موقع دیا جائے گا یا انہیں ؟ یا ’ نئے ووٹر ‘ کے طور پر ان کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی؟ اس کے علاوہ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر عام شناختی دستاویزات جیسے پین کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، منریگا جاب کارڈ، راشن کارڈ، اور بینک پاس بک جو الیکشن کمیشن میں قبول کی جاتی ہیں ، انہیں اس بار منظوری کی فہرست سے کیوں نکال دیا گیا ہے؟

آ خر میں ملک معتصم خان نے ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال ، شفافیت اور لسٹ کی درستگی پر زور دیتے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن نے کوئی مؤثر ڈی-ڈپلیکیشن سسٹم نافذ کیا ہے؟ اور کیا وہ مسودہ اور حتمی ووٹر لسٹ مشین ریڈایبل (Machine-Readable) شکل میں عوام کے لیے جاری کی جائے گی ؟ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ووٹروں کے اعتماد کو قائم رکھنے اور کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری یا غلطی سے بچاؤ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

ملک معتصم خان نے مزید کہا “ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کو شہریت کی تصدیق کے طور پر نہیں کیا جانا چاہئے۔ملک کے تمام شہریوں کو ووٹ کا حق محفوظ ہونا چاہیے ، اسے بیوروکریٹک رکاوٹوں کے ذریعے محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔” انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ان تمام سوالات کا جواب عوامی سطح پر دیا جائے ۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی شہری کو دستاویزات کی کمی یا انتظامی بدنظمی کی وجہ سے ووٹ کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری ہے کہ اس میں تمام طبقات کی شمولیت اور اعتماد ہو۔ اس کے لیےالیکشن کمیشن کو شفاف طرزِ عمل اپنانا ہوگا، آئینی اصولوں کی پاسداری کرنی ہوگی اور ہر ہندوستانی کے حقِ رائے دہی کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔

Recent News

’امرت ادیان‘3فروری سے عام لوگوں کے لیے کھل جائے گا

’امرت ادیان‘3فروری سے عام لوگوں کے لیے کھل جائے گا

February 1, 2026
2026-27کے بجٹ میں ’ ترقی یافتہ ہندوستان ‘ کا ہدف

2026-27کے بجٹ میں ’ ترقی یافتہ ہندوستان ‘ کا ہدف

February 1, 2026
دہلی-این سی آر میں پھر موسم نے   لی کروٹ

دہلی-این سی آر میں پھر موسم نے لی کروٹ

February 1, 2026
عدالتوں میں الزامات طے کرنے میں تاخیر پر سپریم کورٹ برہم

ماہواری سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

January 31, 2026
ہماچل پردیش میں شدید برفباری

ہماچل پردیش میں شدید برفباری

January 30, 2026
آئی پی یونیورسٹی میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے داخلہ عمل شروع

آئی پی یونیورسٹی میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے داخلہ عمل شروع

January 29, 2026
Urdu News:
National قومی خبریں Arab عرب ممالک World عالمی خبریں Education تعلیم Jobs روزگار
Indian Newspapers:
اردو বাংলা অসমীয়া
Arab Media:
Algeria الجزائر Bahrain البحرين Comoros جزر القمر Djibouti جيبوتي Egypt مصر Iraq العراق Jordan الأردن Kuwait الكويت Lebanon لبنان Libya ليبيا Mauritania موريتانيا Morocco المغرب Oman عمان Palestine فلسطين Qatar قطر Saudi Arabia السعودية Somalia الصومال Sudan السودان Syria سوريا Tunisia تونس U.A.E الإمارات العربيّة المتّحدة Yemen اليمن
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Indian Newspapers
Arab Media
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Akhbar Urdu Logo
  • About Us
  • Advertising
  • Contact Us
  • Sitemap
  • Disclaimer
  • Privacy Policy

All trademarks, trade names, service marks, copyrighted work, logos referenced herein belong to their respective owners/companies. Any Query Please write us

©akhbarurdu.com, Indian Urdu Media Info website.

  • Home Icon Home
  • News Icon News
  • Newspapers Icon Newspapers
  • Naat Icon Naat
  • Dictionary Icon Dictionary
No Result
View All Result

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.