متھرا: اتر پردیش میں ہولی کے تہوار سے پہلے مذہبی اور سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، دریں اثنا، شاہی عیدگاہ مسجد-شری کرشن جنم بھومی اور تنازعہ معاملے کے اہم درخواست گزار دنیش شرما، جو پھلاہاری مہاراج کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ہولی کے موقع پر مسلم دکانداروں کو رنگ اور گلال فروخت کرنے سے روکا جائے۔
پھلاہاری مہاراج نے اپنے خط میں الزام عائد کیا ہے کہ بعض ہندو مخالف عناصر ہولی کی پاکیزگی کو متاثر کرنے کے لیے رنگوں میں شیشہ کے ٹکڑے یا دیگر ناپاک اشیا ملا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے سے بچانے کے لیے مسلم برادری کے افراد کو ہندو تہواروں سے متعلق کاروبار سے دور رکھا جانا چاہیے۔
خط میں انہوں نے یہ اپیل بھی کی ہے کہ شری کرشن جنم بھومی اور دیگر اہم مندروں کے اطراف مسلم تاجروں کو اسٹال لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے ان سرگرمیوں کو مبینہ طور پر لو جہاد جیسی سازشوں سے بھی جوڑا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ ہندوؤں کے مقدس تہوار سے متعلق سامان صرف سناتنی تاجروں کے ذریعے فروخت ہونا چاہیے۔
دنیش شرما اپنے سخت عزم کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ چار برس سے اناج ترک کیے ہوئے ہیں اور صرف پھلوں پر گزارا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک جنم بھومی احاطے سے مسجد مکمل طور پر نہیں ہٹائی جاتی، وہ معمول کا کھانا قبول نہیں کریں گے اور ان کا یہ احتجاج بدستور جاری ہے۔پھلاہاری کے اس مطالبے کے بعد ایک بار پھر معاشی بائیکاٹ کی بحث زور پکڑ گئی ہے۔ ایک طبقہ اسے تحفظ اور مذہبی پاکیزگی کا مسئلہ قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے سماجی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کے منافی سمجھتا ہے۔
