پٹنہ:بہار کی 243 اسمبلی سیٹوں میں سے 87 سیٹیں ایسی ہیں، جہاں مسلم آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ جبکہ 47 اسمبلی سیٹوں پر مسلم آبادی 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہے۔ بہار میں سب سے زیادہ مسلم آبادی سیمانچل علاقہ کے 4 اضلاع میں ہے، جس میں ارریہ، کٹیہار، کشن گنج اور پورنیہ شامل ہیں۔ ان 4 اضلاع میں سے بھی سب سے زیادہ 68 فیصد مسلم آبادی کشن گنج میں ہے۔ اس کے بعد کٹیہار میں 44 فیصد، ارریہ میں 43 فیصد اور پورنیہ میں 38 فیصد مسلم آبادی ہے۔ ان چاروں اضلاع میں مجموعی طور پر 24 اسمبلی سیٹیں آتی ہیں۔
بہار میں روایتی طور پر مسلم ووٹوں کا سب سے بڑا حصہ لالو پرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کو ملتا رہا ہے۔ دوسری جانب بہار کے موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو کُل مسلم ووٹوں کا قریب 5 فیصد حصہ ملتا رہا ہے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں جب نتیش کمار کی جے ڈی یو نے بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر انتخاب لڑا تھا، تو انہیں کُل 23.5 فیصد مسلم ووٹ شیئر ملے تھے۔ اس کے بعد جے ڈی یو نے سال 2019 اور 2024 کا لوک سبھا انتخاب این ڈی اے کے ساتھ مل کر لڑا تو بالترتیب 6 فیصد اور 12 فیصد مسلم ووٹ شیئر حاصل کیے۔ جے ڈی یو اور بی جے پی کے ساتھ ان دونوں انتخابوں میں لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) اور ہندوستان عوام مورچہ (ایچ اے ایم) بھی این ڈی اے کا حصہ تھے۔
سال 2015 میں جب لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی اور نتیش کمار کی جے ڈی یو نے بہار اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کے خلاف اتحاد کیا تھا، تب ان کے اتحاد کو پوری ریاست کے مسلم ووٹ شیئر کے 80 فیصد ووٹ ملے تھے۔ حالانکہ 2020 میں اسمبلی انتخاب سے قبل نتیش کمار نے پھر سے بی جے پی کا ساتھ اپنا لیا۔ اس کے بعد انتخاب میں انہیں صرف 5 فیصد مسلم ووٹ ملے، جبکہ آر جے ڈی اتحاد کو 76 فیصد مسلم ووٹ ملے۔ آر جے ڈی-کانگریس اتحاد کو سال 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں 80 فیصد اور سال 2024 کے انتخاب میں 87 فیصد ووٹ ملے تھے۔






