نیپال میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس کی وجہ سے حالات انتہائی سنگین ہو گئے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اس تشدد میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 51 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں سے تقریباً 30 افراد کو گولیاں لگنے سے موت ہوئی ہے، جبکہ دیگر 21 افراد آگ میں جلنے، چوٹ لگنے اور دیگر زخموں کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔ مہلوکین میں عام شہریوں کے ساتھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
تشدد کے بگڑتے حالات نے بیرون ممالک کے شہریوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ بڑی تعداد میں غیر ملکی اپنی جان بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ کئی ہندوستانی شہری کسی طرح محفوظ ہو کر واپس وطن لوٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں، تاہم اب بھی کئی لوگ وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہی میں ایک والی بال ٹیم بھی شامل تھی، جسے کٹھمنڈو میں واقع ہندوستانی سفارتخانے نے بحفاظت باہر نکالا۔ سفارتخانے نے ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے انھیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا انتظام کیا۔
قابل ذکر ہے کہ والی بال لیگ کی میزبان اور ٹی وی پریزنٹر اُپاسنا گل نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ایمرجنسی ویڈیو جاری کی تھی۔ اس ویڈیو میں انہوں نے حکومت ہند سے اپیل کی تھی کہ ان کی اور ٹیم کے دیگر اراکین کی جان بچائی جائے۔ اپاسنا نے بتایا تھا کہ ان کا ہوٹل پُرتشدد بھیڑ کے حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے اور وہ مشکل سے اپنی جان بچا پائی ہیں۔ ان کے مطابق حالات انتہائی خوفناک ہیں اور وہ پوکھرا میں محصور ہو گئی تھیں۔
اُپاسنا کی اپیل کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کٹھمنڈو میں ٹیم کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا اور بیشتر اراکین واپس ہندوستان لوٹ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی سفارتخانے نے نیپال میں پھنسے شہریوں کے لیے ایمرجنسی نمبر بھی جاری کیے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
read more….qaumiawaz.com






