نئی دہلی: این سی ای آر ٹی (قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل) کی جانب سے جاری کردہ نئے تعلیمی ماڈیول کو این ایس یو آئی نے ہندوستانی تاریخ کے ساتھ کھلی چھیڑ چھاڑ قرار دیا ہے۔ دراصل نئے تعلیمی ماڈیول میں تقسیم ہند کا ذمہ دار محمد علی جناح، کانگریس اور ماؤنٹ بیٹن کو قرار دیا گیا ہے، جس پر کافی ہنگامہ برپا ہے۔ این ایس یو آئی کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ تقسیم ہند کی سوچ سب سے پہلے 1938 میں ہندو مہاسبھا (جو آر ایس ایس کی پیشرو تنظیم تھی) اور مسلم لیگ نے پیش کی تھی۔ ان دونوں جماعتوں نے مل کر حکومتیں بنائیں۔ جب پورا ملک 1942 میں آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، تو یہ طاقتیں انگریزوں کی خدمت اور خوشامد میں مصروف تھیں۔
این ایس یو آئی نے این سی ای آر ٹی کے ذریعہ جاری کردہ نئے تعلیمی ماڈیول کو نفرت پر مبنی اور بی جے پی-آر ایس ایس نظریات کا حامل قرار دیا ہے۔ اس طلبا تنظیم کا کہنا ہے کہ آج یہی ملک دشمن طاقتیں مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل جیسے عظیم مجاہدینِ آزادی پر جھوٹے الزامات عائد کر رہی ہیں۔ یہ نہایت شرمناک عمل ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ترنگے (قومی پرچم) کی مخالفت کی، آئین اور قومی پرچم کو جلایا اور ہمیشہ ہندوستان کے خلاف صف آرا رہے۔
این ایس یو آئی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ نفرتی سوچ والے لوگ اسکول کے معصوم بچوں کو جھوٹا اور مسخ شدہ تاریخ پڑھا کر ان کے ذہنوں میں نفرت کا زہر بھرنا چاہتے ہیں۔ تقسیم کا درد ان سنگھیوں (آر ایس ایس کے حامیوں) کو کیا معلوم، جو اس وقت گاندھی جی کے قتل کی سازشوں میں مصروف تھے۔ ایک طرف آر ایس ایس کی سازشیں ہو رہی تھیں، اور دوسری طرف گاندھی جی پورے ملک میں فرقہ وارانہ آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہی آر ایس ایس ہے جس نے 2002 تک اپنے دفاتر پر ترنگا نہیں لہرایا۔







