ٹرین کے سفر میں سب سے بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ اگر اچانک سفر کرنا پڑ جائے اور بروقت ٹکٹ نہ ملے، ریلوے نے اس کے متعلق ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ اب وندے بھارت سلیپر اور امرت بھارت ٹرینوں میں بھی امیرجنسی کوٹہ نافذ کیا جا رہا ہے۔ یعنی خاص حالت میں مسافروں کو سیٹ ملنے کی امید بڑھ جائے گی۔ اس کے متعلق ریلوے بورڈ نے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ آئیے ذیل میں اس تعلق سے تفصیلی طور پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزارت ریل نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے وندے بھارت سلیپر اور امرت بھارت ٹرینوں میں ایمرجنسی کوٹہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریلوے بورڈ نے اس تعلق سے تمام زونل ریلوے کے پرنسپل چیف کمرشل مینیجرز اور کِرس کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اب تک ان ٹرینوں میں صرف خواتین کوٹہ، معذور افراد کوٹہ، سینئر سٹیزن کوٹہ اور ڈیوٹی پاس کوٹہ ہی نافذ تھا۔ آر اے سی جیسے دیگر ریزرویشن التزامات بھی ان ٹرینوں میں پہلے شامل نہیں تھے۔ لیکن جائزے کے بعد ریلوے نے ایمرجنسی کوٹہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ریلوے بورڈ کی نئی ہدایات کے مطابق جن امرت بھارت ٹرینوں میں 7 یا اس سے زیادہ سلیپر کوچ ہیں ان میں زیادہ سے زیادہ 24 برتھ ایمرجنسی کوٹے کے تحت ریزرو کی جا سکتی ہیں۔ جبکہ وندے بھارت سلیپر ٹرینوں میں ایمرجنسی کوٹہ مختلف زمروں کے حساب سے طے کیا گیا ہے۔ فرسٹ کلاس اے سی (1اے) میں ہفتہ کے عام دنوں میں 4 برتھ اور ویک اینڈ پر 6 برتھ ایمرجنسی کوٹے میں رکھی جا سکیں گی۔ سیکنڈ اے سی (2اے) ویک اینڈ پر 30 برتھ مقرر کی گئی ہیں۔ تھرڈ اے سی (3اے) میں ہفتے کے عام دنوں میں 24 اور ویک اینڈ پر 42 برتھ ایمرجنسی کوٹے کے لیے طے کی گئی ہیں۔ یہ انتظام ٹرینوں میں مانگ اور سفر کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ریلوے بورڈ نے واضح کیا ہے کہ یہ کوٹہ ایڈوانس ریزرویشن پیریڈ (اے آر پی) سے یا بکنگ شروع ہونے کی تاریخ سے، جو بھی پہلے ہو نافذ سمجھا جائے گا۔ یعنی جیسے ہی ٹکٹوں کی بکنگ کھلے گی، اسی وقت سے ایمرجنسی کوٹہ بھی مؤثر ہو جا گا۔ زونل ریلوے کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مانگ اور سیٹوں کی دستیابی کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً اس کوٹے کا جائزہ لے سکیں اور ضرورت پڑنے پر اس میں تبدیلی کر سکیں۔







