لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے اتراکھنڈ کے نوجوان محمد دیپک (اصل نام دیپک کمار) سے اپنی حالیہ ملاقات کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے ان کی جرأت اور آئین سے وابستگی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یوٹیوب پر شیئر کی گئی اس ویڈیو کے عنوان میں راہل گاندھی نے لکھا کہ وہ اتراکھنڈ کے ’محمد دیپک‘ کی حب الوطنی کو سلام پیش کرتے ہیں، جب کہ تفصیل میں کہا کہ کروڑوں ہندوستانیوں کے دلوں میں ہم آہنگی اور محبت کی نظریہ موجود ہے، مگر خوف بھی پایا جاتا ہے اور دیپک نے اپنے حوصلے سے سب کو راستہ دکھایا ہے۔
ویڈیو میں محمد دیپک نے 26 جنوری کے ایک واقعے کی تفصیل بیان کی۔ ان کے مطابق وہ اپنے دوست کی دکان پر موجود تھے کہ کچھ نوجوانوں نے قریب کی ایک دکان پر جا کر نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا اور بدتمیزی کی۔ دیپک نے سوال اٹھایا کہ کسی کو بھی دکان کا نام بدلنے کا حق کیسے دیا جا سکتا ہے اور کیا اس کے لیے کوئی سرکاری کاغذ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دوران معاملہ بڑھا اور ان کی شناخت کے بارے میں سوال کیا گیا۔
دیپک نے کہا کہ انہوں نے اپنا نام ’محمد دیپک‘ اس لیے بتایا کہ وہ خود کو پہلے انسان اور ہندوستانی سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول کچھ افراد نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی، جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔ بعد ازاں انہیں پولیس چوکی پر بلایا گیا اور مبینہ طور پر ماحول خراب ہونے کے اندیشے کے تحت حراست میں رکھا گیا۔
دیپک کے مطابق چند روز بعد بڑی تعداد میں نوجوان ان کے جم کے باہر جمع ہوئے، نعرے بازی اور گالی گلوج کی گئی اور انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران ان کی والدہ بھی موجود تھیں اور اسی منظر نے انہیں جذباتی کر دیا۔ دیپک نے کہا کہ ان کی والدہ چائے کا اسٹال چلاتی ہیں اور ہمیشہ حوصلہ دیتی ہیں کہ اگر کام صحیح ہو تو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
