ٹرین کے فرسٹ اے سی کوچ میں 78 سالہ ریٹائرڈ آفیسر ایچ پی چرن آرام کر رہے تھے، اسی دوران چوہے نے ان کی ناک کتر دی۔ افسر کو جب درد محسوس ہوا تو انھوں نے دیکھا کہ ناک خون سے شرابور ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ حادثہ رات تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ آفیسر چنڈی گڑھ سے اندور جا رہے تھے اور ٹرین جیسے ہی اندور پہنچ، انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق آس پاس دیکھنے پر پتہ چلا کہ کوچ میں موجود چوہے نے ان کی ناک کاٹی ہے۔ اچانک ہوئے اس حادثے سے بزرگ ریٹائرڈ آفیسر گھبرا گئے۔ ساتھ میں سفر کر رہے اہل خانہ نے ان کے زخم کو دیکھا اور ٹرین کے ملازمین کو اطلاع دی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ کوچ میں پہلے سے ہی چوہے اور گندگی کا مسئلہ تھا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سفر کے دوران کوچ میں گندگی اور چوہے کی موجودگی کو لے کر ریلوے اسٹاف سے شکایت کی گئی تھی۔ شکایت کے بعد اسٹاف نے گندگی تو صاف کر دی تھی، لیکن چوہوں کو ہٹانے یا پیسٹ کنٹرول جیسے مؤثر انتظامات نہیں کیے گئے۔ کچھ دیر بعد چوہے نے بزرگ پر حملہ کر دیا۔ اس حادثے نے ٹرین مسافروں کی حفاظت اور صاف صفائی کے انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ریلوے میں صفائی کو لے کر مسلسل دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن کوچ میں چوہوں کی موجودگی جیسا مسئلہ برقرار ہے۔ ٹرین اندور پہچنے کے بعد اہل خانہ نے ایچ پی چرن کو علاج کے لیے کوکیلابین اسپتال میں داخل کرایا۔ ڈاکٹروں نے ان کے زخم کی جانچ کی اور انفیکشن سے تحفظ کے لیے علاج شروع کیا۔ اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹروں نے ریبیز سے بچاؤ کے لیے پہلا انجکشن بھی دیا ہے۔
ٹرین میں چوہے کے کاٹنے کے اس حادثے کے بعد ریلوے کی صاف صفائی اور پیسٹ کنٹرول کے انتظامات پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ خصوصاً بزرگ مسافروں کے لیے اس قسم کا حادثہ باعث فکر ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر کوچ میں چوہوں کی موجودگی کی شکایت ملنے کے بعد وقت رہتے ہوئے مؤثر کارروائی کی جاتی ہے تو اس قسم کے حادثوں کو روکا جا سکتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ کچھ وقت پہلے اندور ایئر پورٹ پر بھی ایک مسافر کو چوہے کے ذریعہ کاٹے جانے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ اب ٹرین میں اس نوعیت کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر خدمات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔







