پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کا شہر ڈیرہ اسماعیل خان گزشتہ شب ایک خوفناک واقعہ سے لرزاُٹھا۔ یہاں پاکستانی خفیہ ایجنسی (آئی ایس آئی) کے لیے کام کرنے والے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق دہشت گرد نورعالم محسود کے گھر پراس وقت فدائین حملہ ہوا جب وہاں شادی کی تقریب جاری تھی اورسینکڑوں لوگ مجود تھے۔ اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اس حملے میں نورعالم محسود سمیت 5 افراد کی موت ہوگئی جبکہ 10 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستانی خفیہ ایجنسی کے عہدیدار کے گھر پر ہوئے خودکش حملے کی ویڈیو اس وقت شادی تقریب کی ہورہی ریکارڈنگ میں ریکارڈ ہوگئی جس میں جہاں ایک طرف لوگ جشن میں ڈوبے ہوئے ہیں وہیں دوسری طرف اچانک زوردار آواز کے ساتھ ایک کمرے میں دھماکہ ہوا جس کے بعد تقریب میں افرا تفری مچ گئی۔ واقعہ کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں وہ لرزا دینے والی ہیں۔ ہرطرف مسخ شدہ لاشیں دیکھی جا سکتی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق سال 2016 میں نورعالم محسود نے تحریک طالبان پاکستان کے ’آپریشن ضرب عضب‘ کے خلاف احتجاجاً ٹی ٹی پی چھوڑ کرآئی ایس آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اس کے بعد آئی ایس آئی کے کہنے پر نورعالم محسود نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹی ٹی پی چھوڑنے والے عسکریت پسندوں کی ایک علیحدہ فوج کھڑی کردی اوراس کو آئی ایس آئی اور فوج نے ’امن کمیٹی‘ کا نام دے دیا۔ اس کا کام ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں سے لڑنا تھا۔ اسی وجہ سے پاکستانی فوج اورآئی ایس آئی اس گروپ کو پاکستانی فوج اور’آئی ایس آئی گڈ‘ طالبان بھی کہتے ہیں۔
نورعالم محسود اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل میں رہتا تھا۔ اس کے لڑاکے ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستانی فوج کے ساتھ مل کرآپریشن میں حصہ لیتے تھے۔ اس صورتحال میں اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق دہشت گرد نورعالم محسود کے گھر پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی ٹی ٹی پی نے کی ہو گی۔






