امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے کے حوالے سے حماس کو نیا الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ حماس کو معاملے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور فوری طور پر فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ تمام شرائط کالعدم تصور کی جائیں گی۔ انہوں نے سختی سے کہا کہ وہ کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ وہ کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے حماس کو خبردار کیا کہ وہ یا تو لڑائی بند کر دے اور ہتھیار ڈال دے، ورنہ تمام امیدیں چکنا چور ہو جائیں گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی یقین دلایا کہ اسرائیل اور حماس دونوں کو اس نازک معاہدے میں شامل کیا جائے گا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، “میں اس بات کی تعریف کرتا ہوں کہ اسرائیل نے یرغمالیوں کی رہائی اور امن معاہدے کی تکمیل کی اجازت دینے کے لیے بمباری کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ حماس کو فوری طور پر کام کرنا چاہیے ورنہ تمام امیدیں خاک میں مل جائیں گی۔ میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کروں گا، اور نہ ہی میں کسی ایسے نتیجے کو قبول کروں گا جس سے غزہ دوبارہ خطرے میں پڑے۔ یہ جلد از جلد کروائیں، ہر کسی کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔”
فلسطینی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے حماس کو یہ وارننگ غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے میں 10 افراد کی ہلاکت کے بعد جاری کی۔ اگرچہ اسرائیل ڈیفنس فورسز(آئی ڈی ایف) نے فضائی حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن فوجی ذرائع نے ٹائمز آف اسرائیل کے حوالے سے بتایا کہ آئی ڈی ایف اب بھی دفاعی کارروائیاں کر رہا ہے، حالانکہ اس نے غزہ کی پٹی میں اپنی کارروائی روک دی ہے۔






