دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری کی اہلیہ نیر بخاری جمعرات کی رات انتقال کر گئیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق نیر بخاری بدھ کی رات معمول کے مطابق گھر پر موجود تھیں۔ انہوں نے رات کا کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر بعد طبیعت میں اچانک خرابی محسوس کی۔ فوری طور پر انہیں دریا گنج کے سنجیون اسپتال لے جایا گیا، مگر ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہیں دل کا شدید دورہ پڑا تھا۔نیر بخاری کے انتقال کی خبر سے بخاری خاندان، جامع مسجد کے حلقوں اور دہلی کے مذہبی طبقے میں گہرے صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔اس موقع پر ان کے بیٹے، نائب امام سید شعبان بخاری اور ان کی بہنیں اسپتال میں موجود تھیں۔ اہلِ خانہ نے اس سانحے پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی ہے۔
نیر بخاری کے انتقال پر دہلی اور ملک بھر سے علما، سماجی رہنما اور سیاسی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ متعدد مذہبی و سماجی تنظیموں نے شاہی امام احمد بخاری اور ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔ دہلی وقف بورڈ کے اراکین، درگاہوں کے متولیان اور مختلف مساجد کے ائمہ نے بھی مرحومہ کی مغفرت اور صبرِ جمیل کے لیے دعا کی ہے۔
نیر بخاری ایک باوقار اور سادہ مزاج خاتون کے طور پر جانی جاتی تھیں، جو ہمیشہ پردے میں رہتے ہوئے گھر اور خاندان کی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتی رہیں۔ ان کے انتقال کو جامع مسجد دہلی کے ایک عہد کے خاتمے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف شاہی امام کے خاندان کا ایک اہم ستون تھیں بلکہ مذہبی روایت کے تسلسل میں بھی ان کا کردار نمایاں تھا۔






