ماہواری سے متعلق سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر ا ب سیاسی رد عمل آنا شروع ہوگئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے ذریعہ ماہواری کو صحت کا بنیادی حق اعلان کئے جانے اور اسکولوں میں طالبات کے لیے مفت سینیٹری پیڈ اور علیحٰدہ ٹوائلٹ کا بندوبست کرنے کے حکم پراپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈراشوک گہلوت نے اس فیصلے کی کھل کر حمایت کی ہے۔ گہلوت نے اسے خواتین کے احترام اور وقار کی سمت میں ایک بڑا قدم قرار دیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ آرٹیکل 21 کے تحت ماہواری صحت کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرنا ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ خواتین اور لڑکیوں کی صحت کے بارے میں معاشرے کے تاثر کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ گہلوت کے مطابق یہ صرف سہولت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ خواتین کی عزت نفس اور مساوی حقوق سے وابستہ معاملہ ہے۔
گہلوت نے کہا کہ ملک بھر کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں طالبات کو مفت بائیوڈیگریڈیبل سینیٹری پیڈ فراہم کرنے کی سپریم کورٹ کی ہدایت انتہائی قابل ستائش ہے۔ اس کے ساتھ ہی طالبات کے لیے علیحدہ اور محفوظ بیت الخلاء کو لازمی قرار دینا بھی ایک ضروری قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات سہولیات کی کمی کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور یہ فیصلہ زمینی سطح پر بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔







