امریکہ نے 4 مارچ کو بحر ہند میں سری لنکائی ساحل کے قریب ایرانی جنگی جہاز ’آئی آر آئی ایس ڈینا‘ پر حملہ کر کے اسے غرق کر دیا تھا۔ اس حملہ میں 87 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ خود امریکی ڈیفنس سکریٹری پیٹ ہیگسیتھ نے اس کی تصدیق کی تھی۔ اس نقصان کا ایران نے سخت جواب دیا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ آئی آر جی سی نے نارتھ پرشین گلف میں امریکہ کے ایک ٹینکر کو ہدف بنایا ہے۔ اس پر کئی میزائلیں داغنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، حالانکہ اس بارے میں تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔اس حملہ سے قبل ہی ایران نے اپنے منصوبے ظاہر کر دیے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ سعید عباس عراقچی نے دو ٹوک لفظوں میں کہا تھا کہ امریکہ کو جنگی جہاز پر حملہ کرنے کے لیے بہت پچھتاوا ہوگا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ’’امریکہ نے ایران کے کناروں سے 2000 میل دور سمندر میں ظلم کیا ہے۔ فریگیٹ ڈینا، جو ہندوستانی بحریہ کا مہمان جہاز تھا اور جس میں تقریباً 130 بحری فوجی سوار تھے، بغیر کسی تنبیہ کے بین الاقوامی سمندر میں حملہ کیا گیا۔ میری بات یاد رکھنا، امریکہ کو بہت پچھتاوا ہوگا۔
بہرحال، ٹینکر پر حملہ کے ساتھ ہی ایران نے عراق کے اِربل میں امریکی فوجی ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی ایران کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے اسپینش براڈکاسٹر ’ٹی وی ای‘ سے کہا ہے کہ اگر یوروپین یونین کے ملک ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل کے حملہ پر خاموش رہے تو انھیں اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔







