نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے منگل کو عوامی طور سے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ این سی ای آرٹی کی طرف سے شائع ہونے والی کلاس 8 کی سماجی سائنس کی نصابی کتاب میں عدالت کے حوالے سے متنازع باب شامل کئے جانے پر طوفان کھڑا ہوگیا تھا۔ ان حالات میں این سی ای آر ٹی نے اب عوامی طور سے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ این سی ای آر ٹی کا کہنا ہے کہ اس پوری کتاب کو واپس لے لیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ این سی ای آر ٹی نے حال ہی میں کلاس 8 کی سماجی سائنس کی نصابی کتاب ’ایکسپلورنگ سوسائٹی:انڈیا اینڈ بیونڈ‘ (حصہ 2) شائع کی ہے۔ اس کتاب میں ’ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار‘ کے عنوان سے ایک باب شامل تھا۔ اس میں عدالتی نظام پر متنازعہ مواد موجود تھا۔ اسی وجہ سے اس متنازع باب پر سپریم کورٹ سمیت مختلف حلقوں سے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر اور کونسل کے اراکین نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس باب کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے لیے غیرمشروط اور کسی طرح کی صفائی کے بغیرعوامی طور پر معافی چاہتے ہیں۔ این سی ای آر ٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ متنازع باب پر مشتمل پوری کتاب کو واپس لے لیا گیا ہے۔ یہ کتاب کہیں بھی دستیاب نہیں کرائی جارہی ہے۔ کونسل نے کہا کہ وہ باب کی وجہ سے ہونے والی پریشانی پر افسوس کا اظہار کرتی ہے اور تمام متعلقہ افراد کی سمجھ بوجھ کی تعریف کرتی ہے۔
ادارے نے تعلیمی مواد کی تیاری کے دوران درستگی، حساسیت اور ذمہ داری کے اعلیٰ ترین معیارات پر عمل کرنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ قابل ذکر ہے کہ این سی ای آر ٹی کی کتابیں ملک بھر کے کئی اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہیں اور کئی ریاستی بورڈز بھی ان کا استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی نصابی کتاب کے مواد کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا براہ راست تعلق تعلیمی نظام، نصاب کی تیاری اور ادارہ جاتی احتساب سے سمجھا جاتا ہے۔
این سی ای آر ٹی کے معافی مانگنے سے پہلے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے این سی ای آر ٹی کی کتاب پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ اس باب کو لکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کا عدلیہ کی توہین کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مرکزی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ہم عدلیہ کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ عدلیہ نے جو کچھ بھی کہا ہے ہم اس کی پوری طرح پابندی کریں گے۔ اس معاملے پر عدلیہ نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ میری ذمہ داری ہے۔ جو کچھ ہوا ہے اس سے مجھے بہت دکھ ہوا ہے اور میں اس کے لیے افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔







