ایران کی جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا اثر آج ہندوستانی شیئر بازار پر صاف طور پر دیکھنے کو ملا۔ جمعہ کو لگاتار تیسرے کاروباری دن بھی بازار میں تیز گراوٹ درج کی گئی اور صبح سے ہی دلال اسٹریٹ میں فروخت کا دباؤ بنا رہا۔ شیئر مارکیٹ میں زلزلہ کے اس ماحول کے سبب چند ہی گھنٹوں میں سرمایہ کاروں کے تقریباً 10 لاکھ کروڑ روپے خاک میں مل گئے۔ یعنی ’بامبے اسٹاک ایکسچینج‘ میں شامل کمپنیوں کا مجموعی مارکیٹ کیپ تقریباً 10 لاکھ کروڑ روپے کم ہو گیا۔
ہفتہ کے روز آخری کاروباری دن بی ایس ای سنسیکش 1470.50 پوائنٹس گر کر 74,563 کی سطح پر بند ہوا، جبکہ ’نفٹی 50‘ بھی 488.05 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 23,151.10 کی سطح پر بند ہوا۔ عالمی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی احتیاط کے باعث بازار میں ہر طرف فروخت دیکھی گئی، جس سے اہم اشاریوں پر دباؤ رہا۔
قابل ذکر ہے کہ ایران کی جانب سے 2 آئل ٹینکرس پر حملہ کے بعد خام تیل کی سپلائی کو لے کر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور سے آبنائے ہرمز سے سپلائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اسی وجہ سے جمعرات کو ’برینٹ کروڈ‘ کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور جمعہ کو بھی یہ تقریباً 100.5 ڈالر کے آس پاس رہی۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے خام تیل کی قیمت بڑھنے سے درآمدی بل، مہنگائی اور کمپنیوں کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا اثر شیئر بازار پر بھی پڑتا ہے۔
دراصل مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے سبب دنیا بھر کے شیئر بازار دباؤ میں ہیں۔ ایشیا میں کے او ایس پی آئی، نکیئی 225، ایس ایس ای کمپوزٹ انڈیکس اور ہینگ سینگ انڈیکس گراوٹ کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی بازار کمزور رہے۔ ڈاؤ جونس انڈسٹریل ایوریج 700 سے زیادہ پوائنٹس گر کر اس سال پہلی بار 47,000 سے نیچے بند ہوا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 اور نسدق کمپوزٹ میں بھی تیز گراوٹ درج کی گئی۔







