جودھپور/احمدآباد: راجستھان ہائی کورٹ نے بدھ کے روز ریپ مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے خود ساختہ مذہبی رہنما آسارام کی عبوری ضمانت میں طبی وجوہات کی بنیاد پر 25 مئی تک توسیع کر دی۔ عدالت نے یہ فیصلہ ایک درخواست پر سماعت کے بعد سنایا، جس میں کہا گیا تھا کہ زیر علاج ہونے کے باعث ضمانت کی مدت میں اضافہ ضروری ہے۔
یہ حکم قائم مقام چیف جسٹس ایس پی شرما اور جسٹس سنگیتا شرما پر مشتمل بنچ نے جاری کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ عبوری راحت 25 مئی تک یا ہائی کورٹ کی جانب سے زیر التوا مجرمانہ اپیل پر فیصلہ آنے تک، جو بھی پہلے ہو، برقرار رہے گی۔ آسارام کی اپیل پر عدالت پہلے ہی سماعت مکمل کر چکی ہے اور فیصلہ محفوظ رکھا گیا ہے۔
آسارام کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل یشپال راجپوروہت نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ہائی کورٹ نے اپیل کی سماعت مکمل کر لی ہے، تاہم چونکہ ملزم کا علاج جاری ہے، اس لیے اس کی صحت کے پیش نظر ضمانت میں توسیع کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علاج کے دوران مسلسل طبی نگرانی ضروری ہے، جس کے بغیر صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
دوسری طرف ریاستی حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل دیپک چودھری نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عبوری ضمانت میں مزید توسیع مناسب نہیں اور اس سے عدالتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد طبی بنیاد کو اہمیت دیتے ہوئے ضمانت میں توسیع کا حکم دیا۔







