مرکزی حکومت نے لداخ میں جاری تعطل کو ختم کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وزارت داخلہ نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے لداخ کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی حراست کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری آفیشل بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’حکومت لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کا ماحول بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری اور بامقصد مذاکرات میں آسانی پیدا کرنے کے مقصد سے لیا گیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس قدم سے لداخ کے مطالبات کو لے کر جاری تعطل کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ سونم وانگچک گزشتہ کافی عرصے سے لداخ کو ’چھٹے شیڈول‘ میں شامل کرنے اور ریاست کا درجہ دینے جیسے مطالبات کو لے کر تحریک چلا رہے تھے۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک کی حراست کے بعد لداخ اور ملک کے دیگر حصوں میں احتجاجی مظاہرے تیز ہو گئے تھے۔ اب حراست ختم ہونے کے بعد یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مرکزی حکومت اور لداخ کے وفود کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ وانگچک کے خلاف نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) جیسی سخت دفعات کے استعمال پر سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ وزارت داخلہ نے اب واضح کیا ہے کہ مستقبل کی مثبت بات چیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی یہ رہائی یقینی بنائی گئی ہے، تاکہ مرکز اور لداخ کے درمیان اعتماد کی کمی کو دور کیا جا سکے۔







