نئی دہلی :بھارت میں طویل تاخیر کے بعد اپنی قومی مردم شماری کا آغاز کر دیا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی گنتی تصور کی جاتی ہے اور اس کے نتائج ملک کی فلاحی اسکیموں اور سیاسی نمائندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ بھارت کی آخری مردم شماری سن 2011 میں ہوئی تھی، جس میں آبادی 1.21 ارب ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اب اندازہ ہے کہ یہ تعداد 1.4 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔یہ مردم شماری اصل میں 2021 میں ہونا تھی، تاہم کورونا وبا اور دیگر انتظامی مشکلات کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب اس عمل کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔پہلے مرحلے کا آغاز چہارشنبہ کے روز ہوا ہے اور یہ ستمبر تک ملک بھر میں جاری رہے گا۔ اس دوران اہلکار گھروں، رہائشی سہولیات اور زندگی کے حالات سے متعلق معلومات جمع کریں گے۔ اس عمل میں روایتی سروے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل نظام بھی استعمال کیا جائے گا، جس کے تحت شہری ایک کثیر لسانی موبائل ایپ کے ذریعے اپنی معلومات فراہم کر سکیں گے۔
دوسرا مرحلہ ستمبر سے اگلے سال یکم اپریل تک جاری رہے گا، جس میں افراد کی سماجی اور معاشی خصوصیات، جیسے مذہب اور ذات پات سے متعلق تفصیلات جمع کی جائیں گی۔ اس پورے عمل میں 30 لاکھ سے زائد سرکاری اہلکار حصہ لیں گے۔اس مردم شماری کا ایک اہم پہلو ذات پات سے متعلق جامع ڈیٹا جمع کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی مردم شماری کے نتائج حکومت کی فلاحی پالیسیوں، وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ یہ عمل ملک کے سیاسی نقشے میں بھی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں میں آبادی کے حساب سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔







