جموں اور کشمیر کے پونچھ اور راجوری اضلاع میں آئندہ 48 گھنٹوں تک بارش سے نقصان کا خطرہ برقرار ہے۔ دوسری جانب بانڈی پورہ ضلع انتظامیہ نے منگل کو کشن گنگا ندی کی سطح آب میں اضافے کے باعث خراب موسم کی وارننگ جاری کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گزشتہ 3 دنوں کے دوران پونچھ اور راجوری اضلاع میں 50 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی ہے، جس سے زمین پانی سے پوری طرح بھر چکی ہے اور اس میں مزید پانی جذب کرنے کی صلاحیت انتہائی کم ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی کا بہاؤ تیز ہوگا اور ڈھلوانوں کا استحکام کم ہو جائے گا، خاص طور پر اضلاع کے بالائی علاقوں میں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ پہاڑی علاقوں اور حساس سڑکوں کے آس پاس لینڈ سلائیڈ، مڈ سلائیڈ، اچانک سیلاب، ڈھلانوں کے دھنسنے اور عمارات و بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کافی بڑھ جائے گا۔
ایک اور بڑی تشویش یہ ہے کہ آئندہ 2 دنوں میں آنے والے ’ویسٹرن ڈسٹربنس‘ کی وجہ سے ان اضلاع میں بارش بڑھ سکتی ہے۔ چونکہ پونچھ اور راجوری پیر پنجال رینج کے علاقے میں آتے ہیں، اس لیے جموں و کشمیر میں داخل ہونے والے ویسٹرن ڈسٹربنس کا اثر سب سے پہلے انہی علاقوں پر پڑتا ہے۔ مٹی میں پانی بھر جانے، ڈھلوانوں کے کمزور ہونے اور مزید بارش کے امکانات کے باعث، ہلکی یا تیز بارش سے بھی نئے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران پونچھ اور راجوری میں موسم سے جڑی تباہی کا سب سے زیادہ خطرہ ہے اور لوگوں کو تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
اس دوران خراب موسم اور کشن گنگا ندی کے پانی کی سطح میں اضافے کے پیش نظر، گریز کی سب ڈویژنل انتظامیہ نے تمام سیاحوں اور مقامی ٹینٹ کالونی کے مالکان کو احتیاطی تدابیر کے طور پر ندی کے کنارے فوری طور پر خالی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ ایڈوائزری پیر کی شام تلیل وادی کے زیڈگئی گاؤں اور گریز کے اچھورا گاؤں میں یکے بعد دیگرے بادل پھٹنے کے واقعات کے بعد جاری کی گئی ہے۔ بانڈی پورہ ضلع میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بادل پھٹنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق بادل پھٹنے سے کئی مکانات اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچا ہے۔







