خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے لیے مودی حکومت کے ذریعہ بلائے جا رہے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس پر کانگریس نے جم کر حملہ بولا ہے۔ کانگریس او بی سی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر انل جے ہند نے اس تعلق سے منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’خواتین ریزرویشن قابل بحث موضوع نہیں ہے، بات اب صرف اس کے نفاذ کی ہے۔ کل 16 اپریل سے مودی حکومت پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس بلا رہی ہے، جس میں حکومت کچھ ترامیم لے کر آئے گی۔
ڈاکٹر انل جے ہند کے مطابق مودی حکومت نے اس سے قبل خود خواتین کے ریزرویشن کے لیے ایک روڈ میپ بنایا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پہلے 2027 میں ذات پر مبنی مردم شماری ہوگی۔ اس کی بنیاد پر حد بندی کی جائے گی، تب جا کر خواتین ریزرویشن نافذ کریں گے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ ’’انڈیا اتحاد نے کہا تھا کہ اسے 2024 میں ہی نافذ کر دیجیے، لیکن نریندر مودی نے کسی کی نہیں سنی، وہ نافذ نہیں ہوا۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ مودی حکومت 2011 کی مردم شماری پر اسے نافذ کرے گی، جو اب ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ ڈیموگرافی میں بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ اگر حکومت کو 2011 کی بنیاد پر ہی خواتین ریزرویشن نافذ کرنا تھا تو پہلے کیوں نہیں کیا۔
کانگریس لیڈر نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنا چاہتی ہے، اس کے پیچھے کچھ دلائل ہیں جنہیں آپ جان لیجیے۔ 20 جولائی 2021 کو پارلیمنٹ میں مودی حکومت نے بتایا کہ حکومت نے ایک پالیسی کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ مردم شماری میں ایس سی/ایس ٹی کے علاوہ دیگر ذاتوں کی گنتی نہیں کی جائے گی۔ 21 ستمبر 2021 کو مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری نہ کرانے کا پالیسی پر مبنی فیصلہ لیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’24 اپریل 2024 کو نریندر مودی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کرنے والے ’اربن نکسل‘ ذہنیت کے ہیں۔ 30 اپریل 2025 کو کابینہ کی ایک میٹنگ ہوئی، جس کے بعد حکومت کے ایک وزیر نے کہا کہ ہم ذات پر مبنی مردم شماری کرائیں گے۔
